The news is by your side.

Advertisement

ختمِ نبوت قانون میں تبدیلی، حکومت ذمہ دار کوسامنے لائے، وزیر قانون ملکی مفاد سے بڑھ کر نہیں، سراج الحق

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کو اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے، موجودہ قیادت فیل ہوگئی ہے،ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کے ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے۔

وہ کوئٹہ میں خواتین کے سمینار تقریب سے خطاب کررہے تھے، امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جو انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ خواتین کی مدد کے بغیر ممکن نہیں، شیطانی قوتیں مایوس ہورہی ہیں جو پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانا چاہتی ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کے اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے اور اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت بااثر افراد کو بچانا چاہتی ہے اور قبیح عمل میں شامل بھی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیر قانون زاہد حامد پاکستان کے اجتماعی مفاد سے بڑھ کر نہیں ہیں چنانچہ اگر وہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کے مرتکب پائے گئے ہیں تو استعفیٰ کے ساتھ ساتھ سزا بھی ہونی چاہئے تاہم اس حوالے سے قائم کمیٹی کو 28 دن ہوگئے لیکن اب تک حکومت نے ذمہ داروں کے نام نہیں بتائے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں سب سے پہلے میں سپریم کورٹ گیا تھا جس کے بعد نواز شریف کو سزا ہوئی لیکن پاناما لیکس میں آنے والے 436 افراد کے خلاف کارروائی ہونا ابھی باقی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سے کمیشن یا جے آئی ٹی بنانے کی درخواست ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 150 میگا اسکینڈل نیب کے پاس موجود ہیں جن میں عوام کے ٹیکسوں کے روپوں کو چرانے والوں کے نام شامل میں جس کی تحقیقات ہونا بے حد ضرورری ہے تاکہ بیس کروڑ عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں کو سزا ملے۔

سراج الحق نے نواز شریف کے جلسے جلوسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی مرکزی حکومت نہیں ہے بلکہ یہ حکومت وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہی ہے اور جلسے جلوس کر کے کنٹینر کے پیچھے چھپ کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اب یہ کنٹینرز حکومت کو نہیں بچا سکتے۔

یہ پڑھیں: بلا تفریق احتساب کے عمل کو تیز تر کیا جائے، سراج الحق

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی خواتین سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہیں، جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرنے والی خواتین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں