نوجوان روزگار کے لیے کراچی آتے ہیں اور واپس ان کی لاشیں جاتی ہیں، سراج الحق naqeeb
The news is by your side.

Advertisement

نوجوان روزگار کے لیے کراچی آتے ہیں اور واپس ان کی لاشیں جاتی ہیں، سراج الحق

کراچی : امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی میں‌ ملک کے دیگر حصوں سے نوجوان روزگار کے حصول کے لیے آتے ہیں لیکن یہاں انہیں جعلی مقابلوں میں‌ ہلاک کر کے لاشیں واپس بھیجی جاتی ہیں.

وہ سہراب گوٹھ پر نقیب اللہ محسود کے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کے خلاف بلائے گئے گرینڈ جرگے سے خطاب کر رہے تھے، امیر جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 10 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے.

سراج الحق نے کہا کہ جعلی پولیس مقابلوں میں قبائلی عوام اور مزدور پیشہ پختونوں کی ہلاکت افسوسناک عمل ہے جو کراچی میں مسلسل جاری ہے تاہم نقیب اللہ محسود کی ہلاکت نے قوم کو زندہ کر دیا ہے چنانچہ اب پوری قوم پر یہ قرض ہے کہ نقیب اور دیگر کے قاتلوں کو انجام تک پہنچایا جائے.


مزید پڑھیں :  نقیب اللہ کراچی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیٹ ورک چلا رہاتھا ، راؤ انوار کا دعویٰ


سراج الحق نے کہا کہ جب مظلوموں کی کوئی نہیں سنتا تو زلزلے آتے ہیں جب تک قاتل آزاد ہیں تب تک وزیراعلیٰ کھانا پینا چھوڑ دیں،ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نظام بنے جس سے مزید راؤ انوار پیدا نہ ہوں جس کے لیے آج کا یہ گرینڈ جرگہ جو بھی فیصلہ کرے گا جماعت اسلامی ان کے ساتھ کھڑی ہو گی.

قبل ازیں سربراہ گرینڈ جرگہ رحمت خان محسود نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم نے نقیب کے لئے آواز اٹھائی اور ثناء اللہ عباسی کی ٹیم نے 100 فیصد کام کیا جب کہ جرگہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی بھی سندھ حکومت سے رابطے میں ہے.


انسانی حقوق کمیشن نے نقیب اللہ کا قتل ماورائے عدالت قراردیدیا 


رحمت خان محسود کا کہنا تھا کہ ہمارے سارے مطالبے مان لیے گئے ہیں اس لیے طویل مشاورت کے بعد آج سے جرگہ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہیں تاہم انصاف نہ ملا تو پھر اسلام آباد جائیں گے اس لیے جرگے کو ختم نہیں معطل سمجھا جائے.

انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور کراچی کے علاوہ اسلام آباد میں بھی اس خون ناحق پر احتجاج ہو رہا ہے چنانچہ کراچی کا گرینڈ جرگہ وہاں بھی شامل ہوگا اور معصوم بچوں کی جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر آواز اُٹھائے گا.


 نقیب اللہ کی ہلاکت ، معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے چھاپے 


خیال رہے کہ تین جنوری کو نقیب اللہ محسود کو دو دوستوں سمیت ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی ٹیم نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد نقیب اللہ کے دو دوستوں کو چھوڑ دیا گیا تھا لیکن نقیب اللہ کا کچھ پتہ نہیں چل سکا تاہم 13 جنوری کو راؤ انوار کی جانب سے پریس کانفرنس میں تین دہشت گردوں کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کا دعوی سامنے آیا جس میں سے ایک نقیب اللہ محسود تھا.

سوشل میڈیا پر نقیب اللہ محسود کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد بڑھنے والے عوامی دباؤ کے باعث حکومت حرکت میں آئی اور سول ساسائٹی سمیت دیگر جماعتوں نے بھی راؤ انوار کے خلاف شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جس پر سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دی جس نے پولیس مقابلہ جعلی قرار دے کر راؤ انوار کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تاہم راؤ انوار روپوش ہوگئے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں