The news is by your side.

Advertisement

چھ ملکی اسپیکر کانفرنس: دہشت گردی کی روک تھام کےلیےروابط بڑھانےپراتفاق

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس میں شرکا نے خطے کی سیکورٹی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے نئے چیلنجز پرتبادلہ خیال کیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں دہشت گردی اور بین العلاقائی رابطے کے عنوان سے 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس میں پاکستان، ترکی، چین ، ایران، روس اور افغانستان کے اسپیکرز نے شرکت کی۔

صدر مملکت ممنون حسین اور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی کانفرس سے خطاب کیا۔

کانفرس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں شریک تمام ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی تنظیمیں مسئلہ کشمیر اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا حل نکالنے میں ناکام ہوگئیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے نتیجے میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان کو دہشت گردی سے اب تک 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

اسپیکرقومی اسمبلی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دنیا کی آدھی کپاس پاکستان اور چین میں پیدا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزین پاکستان، ترکی اور ایران میں ہیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ منشیات کی تجارت سے بھی دنیا کو خطرہ ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آپس کے اختلافات سے ترقی نہیں رکنی چاہیے۔


پاکستان کوکسی دوسرےملک سےنوٹس لینےکی ضرورت نہیں‘ چیئرمین سینیٹ


بعدازاں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کررہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں اپنی ناکامی کا الزام پاکستان پرعائد کیا تھا۔

رضا ربانی نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا نیا گٹھ جوڑ بن گیا ہے جبکہ امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنا رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ایشیا اپنی قسمت کے فیصلے خود کرے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ سمجھ سے بالاترہے جبکہ دنیا نے بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ قبقل نہیں کیا اور جنرل اسمبلی میں امریکہ کو اس حوالے سے جواب مل گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’امریکہ پرواضح کرنا چاہتے ہیں پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اسے کسی دوسرے ملک سے نوٹس لینے کی ضرورت نہیں ہے‘۔


صدر ممنون حسین کا کانفرنس سے خطاب


صدر ممنون حسین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد دنیا کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے اور دنیا بھر میں دہشت گردی مزید پھیل گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور بہت جلد دہشت گردی کو مکمل طور پرختم کردیا جائے گا۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے برصغیر کا امن داؤ پرلگا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے میں نئے معاشی دور کا آغاز ہوگا، خطے کے تمام ملکوں کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ خطے میں انقلابی تبدیلی لائے گا اور اس سے دنیا کے زیادہ ترممالک ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے۔


غیرملکی اسپیکرز کا کانفرنس سے خطاب


چینی اسپیکر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتے چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جاسکتا ہے، سی پیک خطے کے لیے فائدہ مند ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک اسپیکر نے کہا کہ تعاون کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹا جاسکتا ہے، معیشت کی بہتری کے لیے تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

روسی اسپیکر کا کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ پارلیمان کے علاوہ عوام سےعوامی رابطہ ضروری ہے، معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، علاقائی ممالک کے تعاون سے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

افغان اسپیکر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی علاقائی نہیں بلکہ عالمی چیلنج ہے، اس کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں