site
stats
پاکستان

پاکستان کی چھ جامعات دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل

لندن: عالمی درجہ بندی کی بنیاد پر نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نسٹ کو ملک کی بہترین یونیورسٹی کا اعزازحاصل ہوا ہے۔

پاکستان کی چھ معروف جامعات دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی نئی رینکنگ میں شامل ہیں اور ان کی تعداد کیو ایس ورلڈ رینکنگ 2015 کے مقابلے میں دوگنی ہے۔

کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 17 /2016 کے تیرہویں ایڈیشن میں امریکہ اور برطانیہ کے معروف تعلیمی اداروں نے اپنی ٹاپ پوزیشن برقرار رکھی ہیں۔

دنیا کی ٹاپ یونیورسٹی کا اعزاز امریکہ کی یونیورسٹی میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے حاصل کیا اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

کیو ایس نے ایشیا کی ٹاپ 300 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کی فہرست میں پاکستان کی 10 یونیورسٹیوں کو شامل کیا ہے، دریں اثناء دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی تازہ ترین فہرست میں پاکستان کی چھ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔

عالمی درجہ بندی کی بنیاد پر نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کو ملک کی بہترین یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہوا ہے اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور قائد اعظم یونیورسٹی بالترتیب پاکستان کی دوسری اور تیسری بہترین یونیورسٹیاں ہیں۔

سالانہ رینکنگ میں اس برس تین نئی جامعات کو +700 بہترین یونیورسٹیوں کے گروپ میں شامل کیا گیا ہےجس میں یونیورسٹی آف کراچی، یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور یونیورسٹی آف لاہور شامل ہیں۔

Pakistani-Universities

 

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی: یونیورسٹی ترقی پسند اور جدید نقطئہ نظر کے ساتھ پاکستان کی معروف یونیورسٹی ہے، جسے سائنسز، تحقیق اور ترقی کے لیے جدید مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس یونیورسٹی کا قیام 1991ء میں ہوا ۔

کیو ایس کی عالمی درجہ بندی میں یہ پاکستان کی ٹاپ رینکنگ یونیورسٹی ہے جو 501-550 بہترین یونیورسٹیوں کے گروپ میں شامل ہے۔ اسی طرح موضوعات کی بنیاد پر کیو ایس کی عالمی درجہ بندی میں یونیورسٹی 250ویں نمبر پر ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز: پاکستان کی مشہور یونیورسٹی کو ناصرف پاکستان بلکہ ایشیائی خطے کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ 1984ء میں قائم ہونے والی یونیورسٹی ایک نجی تحقیقی یونیورسٹی ہے۔

کیو ایس کی رینکنگ میں اسے +700 بہترین یونیورسٹیوں کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے اس کے علاوہ 111 ویں پوزیشن کے ساتھ ایشیائی خطے کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی جسے اسلام آباد یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ یونیورسٹی 1967ء میں قائم ہوئی جس نے حال ہی میں اقوام متحدہ اور ٹوکیو یونیورسٹی سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون شروع کیا ہے۔

کیو ایس رینکنگ میں اسے پاکستان کی بہترین جامعات میں سے ایک طور پر درج کیا گیا ہے جو کیو ایس ورلڈ رینکنگ میں +700 زمرے میں شامل ہے جبکہ ایشیا رینکنگ 2015ء میں یہ 149 ویں نمبر پر ہے۔

یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور : کیو ایس ورلڈ رینکنگ میں پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ نئی ورلڈ رینکنگ میں اسے +700 بہترین یونیورسٹیوں کے گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔ اسے 1954ء میں کان کنی انجنیئرنگ میں بچلر ڈگری کی پشکش کرنے والی پہلی یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے ۔

کراچی یونیورسٹی : کراچی یونیورسٹی کو آج برصغیر اور تیسری دنیا میں تعلیم اور تحقیق کے ایک اہم مرکز کی حیثیت حاصل ہےجس کے اساتذہ کی بڑی تعداد عالمی شناخت کی مالک ہے یہ اعلیٰ سطح کی تحقیقی مرکز ہونے کے علاوہ ملک کی بڑی یونیورسٹی ہے جہاں 800 ماہرین تعلیم 26 ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیم دے رہے ہیں۔ نئی ورلڈ رینکنگ کے اعتبار سے یونیورسٹی + 700 بہترین یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں شامل ہے۔

یونیورسٹی آف لاہور : پاکستان کی یونیورسٹیوں میں سے ایک نئی یونیورسٹی ہے جہاں نجی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے سیکھنے اور تحقیق کے کورسسز کا بڑا انتخاب موجود ہے اس کا قیام 1999ء میں ہوا کیو ایس کی عالمی درجہ بندی میں اسے +700 بہترین جامعات کے گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔

دنیا کے معروف تعلیمی اداروں کی عالمی درجہ بندی

دنیا کے معروف اور قابل احترام رینکنگ ایجنسی کیو ایس کے مطابق ورلڈ رینکنگ میں ٹاپ تین پوزیشن امریکی جامعات نےحاصل کی ہے۔

میسا چوسٹس یونیورسٹی نے مسلسل پانچویں سال فہرست میں اپنی پہلی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے۔

برطانیہ کے چار تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف کیمبرج اور آکسفورڈ یوینورسٹی فہرست میں بالترتیب چوتھے اور چھٹے نمبر پر ہیں اور یونیورسٹی کالج لندن اور ایمپریل کالج لندن عالمی درجہ بندی میں بالترتیب ساتویں اور نویں نمبر پر ہیں۔

دس بہترین یونیورسٹیوں میں سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی آٹھویں نمبر پر ہے اور شکاگو یونیورسٹی دسویں نمبر پر ہے۔

کیو ایس کی سالانہ رینکنگ میں تعلیمی اداروں کی چھ شعبوں تعلیمی ساکھ، اساتذہ کی ساکھ، فیکلٹی میں طلبہ کا تناسب، فیکلٹی فی اقتباسات، انٹرنیشنل فیکلٹی تناسب اور بین الاقوامی طالب علموں کا تناسب کے حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے اور حاصل کردہ اسکور کے مطابق یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کی ہے۔

اس سال مجموعی طور پر دنیا کے 81 ممالک سے 3,800 تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد 916 یونیورسٹیوں کی عالمی درجہ بندی کی ہے جبکہ فہرست میں 400 بہترین یونیورسٹیوں کو انفرادی طور پر پوزیشن دی گئی ہے جس کے بعد گروپ کی شکل میں جامعات کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top