The news is by your side.

Advertisement

قدیم دور کے اس بچے کی موت کی وجہ معلوم ہو گئی

ابتدائی قرون وسطیٰ کے برطانیہ میں ایک 6 سالہ لڑکے کی الم ناک موت کی وجہ سائنس دانوں نے معلوم کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایسٹونیا کی یونیورسٹی آف ٹارٹو کے محققین نے 6 سالہ بچے کی باقیات کے تجزیے کے بعد اس کی وجۂ موت کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

یہ بچہ 14 سو سال پرانے اینگلو سیکسن دور سے تعلق رکھتا تھا، بچے کی باقیات کیمبرج شائر کے علاقے سے دریافت کی گئی تھیں، اب سائنس دانوں نے جینیاتی تجزیے کی مدد سے ایک ہزار چار سو سال قبل مرنے والے اس بچے کی موت کی وجہ جان لی ہے۔

لیبارٹری میں ہونے والے تجزیے سے انکشاف ہوا کہ اس 6 سالہ بچے کو 540 سے 550 بعد از مسیح کے درمیان ایڈکس کے پہاڑی سلسلوں میں دفن کیا گیا تھا۔

ریسرچرز کے مطابق دانت کے جینیاتی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ بچہ گردن توڑ بخار، طاعون اور جوڑوں کے درد میں مبتلا تھا۔

تاہم بچے کی موت کی وجہ انفلوئنزا اور طاعون ہے، کیوں کہ ویکسین ایجاد ہونے سے قبل 1977 تک انفلوئنزا بچوں میں موت کا اہم سبب تھا، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر انفلوئنزا کی وجہ سے قوت مدافعت کم زور پڑنے سے طاعون نے اسے اپنا نشانہ بنا لیا۔

محققین نے 2 فروری کو جینوم بائیولوجی میں شائع شدہ مقالے میں کہا کہ ابتدائی قرون وسطیٰ کے انگلینڈ میں 6 سالہ لڑکے کی الم ناک موت نے سائنس دانوں کو ہیموفیلس انفلوئنزا بی کی تاریخ کا ابتدائی براہ راست اشارہ دیا ہے۔ تقریباً 550 عیسوی میں یہ اس بیکٹیریل انفیکشن کا سب سے پرانا کیس ہے، جسے Hib کہا جاتا ہے۔

اس لڑکے کو کیمبرج شائر میں طاعون کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، لڑکے کے ایک دانت سے لیا گیا ڈی این اے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ انفلوئنزا بھی اسی دور میں لوگوں کو متاثر کر رہا تھا، جب تاریخ کی پہلی دستاویزی طاعون کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں