سابق روسی جاسوس پرحملہ آوردوسرے شخص کی شناخت ہوگئی -
The news is by your side.

Advertisement

سابق روسی جاسوس پرحملہ آوردوسرے شخص کی شناخت ہوگئی

برطانیہ میں روسی جاسوس اور ان کی بیٹی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے دوسری شخص کی شناخت ہوگئی، اس مبینہ قاتل کا نام الیگزنڈر مشکین بتایا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی تحقیقاتی ویب سائٹ بیلنگ کیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے سابق جاسوس کو قتل کرنے کے لیے جو دو افراد برطانیہ آئے تھے، ان میں سے دوسرے شخص کی بھی شناخت ہوگئی ہے۔

ویب سائٹ کا دعویٰ ہے الیگزنڈر مشکین نامی شخص نے الیگزنڈر پیٹروف کے نام سے برطانیہ کا سفر کیا ، حقیقت میں وہ ایک ملٹری ڈاکٹر ہے جو کہ روسی انٹیلی جنس ، جی آر یو کے لیے کام کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اسی ویب سائٹ نے سابق روسی جاسوس پر حملہ کرنے والے پہلے شخص کی شناخت بطور اناطولائی شیپیگا کے نام سے ظاہر کی تھی ، تاہم روس کی جانب سے اس دعوے کو مسترد کیا گیا تھا۔تاحال اس دوسرے شخص کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔

برطانیہ میں مقیم سابق روسی جاسوس سرگئی سکرپال اور ان کی بیٹی یولیا پر رواں سال مارچ میں زہریلے مادے سے حملہ کیا گیا تھا ۔ دونوں کئی دن اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد ڈسچارج کردیے گئے تھے۔

ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے الیگزنڈر نامی اس شخص کا پاسپورٹ اسکین کیا تھا ۔ اس نے اپنے اصلی اور نقلی دونوں پاسپورٹس کے ساتھ برطانیہ کا سفر کیا ہے اور دونوں پاسپورٹس پر تاریخ پیدائش ایک درج ہے۔

بیلنگ کیٹ نامی اس ویب سائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نےا س شخص کو اس وقت بطور جاسوس ہائر کیا تھا جب وہ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کررہا تھا ، اس نے یوکرائن کے بھی کئی دورے کیے ہیں ، بالخصوص 2013 کی بد امنی کے دوران اس کا آنا جانا بہت رہا ۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں برطانوی شہر سالسبری میں 66 سالہ سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپل اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا اسکریپل کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ دونوں کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو اعصاب متاثر کرنے والے کیمیکل مواد سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

اعصابی گیس حملے کے تنازع کے بعد سے دونوں ملکوں کی جانب سے سفارتکاروں کو بھی ملک بدر کردیا گیا تھا، امریکا نے بھی روسی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں