روسی جاسوس پر حملہ، ملزمان روسی شہری ہیں لیکن کرمنل نہیں، صدر پیوٹن skripal-poisoning
The news is by your side.

Advertisement

روسی جاسوس پر حملہ، ملزمان روسی شہری ہیں کرمنل نہیں، صدر پیوٹن

ماسکو : برطانیہ میں سابق روسی جاسوس پر اعصاب شکن حملے سے متعلق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ دو مشتبہ افراد کی شناخت کرلی ہے، امید ہے دونوں ملزمان خود سامنے آکر سارا ماجرا خود بتادیں گے۔

تفصیلات کے مطابق روسی حکام نے برطانیہ میں کچھ ماہ قبل سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور ان کی بیٹی پر اعصاب شکن کیمیکل سے حملہ کرنے والے دو مشتبہ افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ڈبل ایجنٹ پر حملہ کرنے والوں سے ’دنیا کے سامنے آکر کہانی بتانے‘ کی امید کا اظہار کیا ہے۔

روس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات مکمل کرلی ہے اور روسی حکام جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں انہیں جلد تلاش کرلیا جائے گا‘۔

ولادی میر پیوٹن نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں مشتبہ افراد میڈیا کے سامنے آکر واقعے کی حقیقت خود دنیا کو بتائیں گے اور یہی سب کے حق میں بہتر ہوگا، انہوں نے کہا کہ وہ لوگ کرمنل نہیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے 6 ستمبر کو روسی جاسوس پر ہونے والے اعصاب شکن کیمیکل حملے کا اصل ذمہ دار روسی صدر کو ٹہراتے ہوئے معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے رواں برس 4 مارچ کو روس کے سابق جاسوس 66 سالہ سرگئی اسکریپال اور اس کی 33 سالہ بیٹی یویلیا اسکریپال پر نویچوک کیمیکل سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دو روسی شہری کئی روز تک اسپتال میں تشویش ناک حالت میں زیر علاج تھے۔

خیال رہے کہ برطانوی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ حملے میں ملوث دونوں ملزمان روسی ایجنسی ’جی آر یو‘ کے افسر ہیں، روسی جنرل اسٹاف اور وزارت دفاع کے سینئر ممبران نے صدارتی دفتر سے احکامات پر عمل کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ولادی میرپیوٹن نے کہا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد روسی شہری ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں