The news is by your side.

Advertisement

نیند کی کمی یا زیادتی سے پھیپھڑوں کی بیماری کا خطرہ، تحقیق

لندن: تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی یا زیادتی سے پھیپھڑوں کی بیماری کا خظرہ بڑھ جاتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پی این اے ایس جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص 11 گھنٹوں تک کی ضرورت زیادہ نیند لے یا پھر صرف 4 گھنٹوں کی کم نیند لے تو اس میں پھیپھڑوں کی لاعلاج بیماری کا خظرہ 2 سے 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق پورے دن میں جسم کو مناسب آرام دینے سے پھیپھڑوں کے سیل میں خرابی میں کمی ہونے لگتی ہے۔

برطانیہ کے مانچسٹر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا اندرونی نظام جسم کے تقریباً ہر خلیے کو ریگولیٹ کرتا ہے، جسم کا اندرونی نظام 24 گھنٹے تک ایک طریقہ کار کے تحت کام کرتا ہے جس میں سونا، ہارمونز کا اخراج اور میٹابولزم کا کام کرنا وغیرہ شامل ہے اور ان تمام کاموں کے لیے سانس لینا سب سے اہم ہے۔

مزید پڑھیں: نیند کی کمی آپ کو کن بیماریوں کا شکار بنا سکتی ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم یا زیادہ سونے کی وجہ سے ہونے والے پلمونری فائبروسز (پھیپھڑوں) ایک بہت ہی دردناک حالت ہے جو اس وقت لاعلاج بیماری ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس حالت سے بچنے کے لیے صرف احتیاط ہی ضروری ہے، اوسط نیند سے زائد سونے یعنی 11 گھنٹے تک کی نیند لینے یا پھر ضرورت سے بہت کم نیند لینے کی وجہ سے یہ مسائل سامنے آتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پھیپھڑوں کی بیماری اس وقت ہوتی ہے جب پھیپھڑوں کے ٹشوز ضائع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس عضو کے کام کرنے میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں