زہریلی اسموگ بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن گئی -
The news is by your side.

Advertisement

زہریلی اسموگ بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن گئی

نئی دہلی: بھارت میں تاریخ کی بدترین فضائی آلودگی کے باعث حکومت نے دارالحکومت کے 1800 پرائمری اسکولوں میں 3 دن کی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔

دہلی کے پرائمری اسکولوں میں 9 لاکھ کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں، جنہیں بدترین فضائی آلودگی میں اسکول جانے کے باعث صحت کے سنگین اور شدید خطرات لاحق تھے۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی دماغی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث

واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت گزشتہ ایک ہفتے سے زہریلی دھند یعنی اسموگ میں لپٹا ہوا ہے جس کے اثرات پاکستانی شہر لاہور میں بھی دیکھے گئے۔

نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی جانب سے کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ اگلے 5 دن تک دہلی میں ہر قسم کا تعمیراتی کام بھی بند رہے گا تاکہ شہر سے دھویں اور آلودگی کے اثرات میں کچھ کمی آسکے۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی ملازمین کی کارکردگی میں کمی کا سبب

شہری حکومت نے خطرناک فضائی آلودگی کے باعث ہنگامی بنیادوں پر شہریوں کے بچاؤ کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے سڑکوں پر ٹریفک کا دھواں کم کرنے کے لیے ’اوڈ ایون‘ کا اقدام اٹھانے کا بھی عندیہ دیا۔ اس اقدام کے تحت گاڑیوں کو ان کی رجسٹریشن نمبر پلیٹ کے حساب سے متبادل دنوں میں (ایک دن جفت اور ایک دن طاق نمبر پلیٹ والی گاڑیاں) سڑک پر لانے کی اجازت ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: دھند کے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں

یاد رہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دیوالی کے موقع پر کی جانے والی آتش بازی کے بعد دہلی میں فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ ہوگیا اور پورے شہر کو زہریلی دھند یا اسموگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یہ اسموگ سرحد پار کر کے پاکستانی شہر لاہور بھی آ پہنچی جس کے باعث اب تک کئی افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ پورا شہر مختلف امراض کی زد میں آچکا ہے۔

مزید پڑھیں: زہریلی اسموگ سے کیسے بچا جائے؟

ناسا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسموگ کی ایک وجہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کا جلایا جانا بھی ہے جس نے فضا پر خطرناک اثرات مرتب کیے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا کا ہر 7 میں سے ایک بچہ بدترین فضائی آلودگی اور اس کے خطرات کا شکار ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فضائی آلودگی سے متاثر بچوں کی بڑی تعداد ایشیائی شہروں میں رہتی ہے۔ فضا میں موجود آلودگی کے ذرات نہ صرف بچوں کے زیر نشونما اندرونی جسمانی اعضا کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خون میں شامل ہو کر دماغی خلیات کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں جس سے ان کی دماغی استعداد میں کمی واقع ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں