The news is by your side.

Advertisement

“کانٹے دار جھاڑیاں ختم نہیں کی جاسکتیں”

ایک راستہ ہے، اس میں کانٹے دار جھاڑیاں ہیں، ایک آدمی بے احتیاطی سے اس راستے میں گھس جاتا ہے۔ اس کے جسم میں کانٹے چبھ جاتے ہیں، کپڑا پھٹ جاتا ہے، اپنی منزل پر پہنچنے میں اسے تاخیر ہو جاتی ہے۔ اس کا ذہنی سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔

اب وہ آدمی کیا کرے گا، کیا وہ کانٹے کے خلاف ایک کانفرنس کرے گا؟

کانٹے کے بارے میں دھواں دھار بیانات شایع کرے گا؟

وہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کرے گا کہ دنیا کے تمام درختوں سے کانٹوں کا وجود ختم کر دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی مسافر اس مسئلے سے دو چار نہ ہو!

کوئی سنجیدہ اور باہوش انسان کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس وہ صرف یہ کرے گا کہ اپنی نادانی کا احساس کرے گا۔

وہ اپنے آپ سے کہے گا کہ تم کو الله تعالیٰ نے جب دو آنکھیں دی تھیں، تو تم نے کیوں نہ ایسا کیا کہ کانٹوں سے بچ کر چلتے، تم اپنا دامن سمیٹ کر کانٹوں والے راستے سے نکل جاتے۔ اس طرح تمہارا جسم بھی محفوظ رہتا اور تم کو منزل تک پہنچنے میں دیر بھی نہ لگتی۔

الله تعالیٰ نے درختوں کی دنیا میں یہ مثال رکھی تھی تاکہ انسانوں کی دنیا میں سفر کرتے ہوئے اس سے سبق لیا جائے، مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی اس آیت کو کبھی کسی نے نہیں پڑھا، خدا کے اس پیغام کو سن کر کسی نے اس سے سبق نہیں لیا۔

آج کی دنیا میں آپ کو بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو انسانی کانٹوں کے درمیان بے احتیاطی کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور جب کانٹے ان کے جسم کے ساتھ لگ کر انھیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو وہ ایک لمحہ سوچے بغیر کانٹوں کو برا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

وہ اپنی ناکامی کو دوسروں کے خانہ میں ڈالنے کی بے فائدہ کوشش کرنے لگتے ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کو جاننا چاہیے کہ جس طرح درختوں کی دنیا سے کانٹے دار جھاڑیاں ختم نہیں کی جاسکتیں، اسی طرح سماجی دنیا سے کانٹے دار انسان بھی ختم نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

اس دنیا میں محفوظ اور کام یاب زندگی کا راز کانٹے دار انسانوں سے بچ کر چلنا ہے۔ اس کے سوا ہر دوسرا طریقہ صرف بربادی میں اضافہ کرنے والا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں!

(معروف اسکالر مولانا وحید الدین کی فکر)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں