سوشل میڈیا انسان کی ’ہزاروں سال‘ پرانی صلاحیت ختم کررہا ہے -
The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا انسان کی ’ہزاروں سال‘ پرانی صلاحیت ختم کررہا ہے

  اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا اب ہم میں سے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کا اہم جزو بن چکا ہے لیکن جہاں یہ مشین اور پلیٹ فارم ہمیں بے بہا معلومات تک رسائی دے رہے ہیں وہیں ہمارے ذہن کے خطرے کو بھانپنے کی قوت کو ختم کررہے ہیں اور ہمیں تنہائی،  منتشر المزاجی اور ڈپریشن میں مبتلا کررہے ہیں۔

 نیورو ریگولیشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے مطابق  اسمارٹ فون ہمیں مسلسل اپنی جانب متوجہ رکھتے ہیں اور ان میں موجود سماجی رابطوں کی اپلیکیشنز کے سبب ہم اصل اور حقیقی سماجی دنیا سے دور ہوتے جارہے ہیں‘ یہ تحقیق امریکا  کی سان فرانسسکو اسٹیٹ  یونی ورسٹی کے پروفیسر ایرک پیپر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر  رچرڈ ہاروے کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔

ہیلتھ ایجوکیشن کے شعبے سے وابستہ مذکورہ بالا ماہرین کا ماننا ہے کہ اسمارٹ فونز کا ایک مقررہ حد سے زیادہ استعمال انسانوں میں  ذہنی امراض کو فروغ دے رہا ہے‘   مسلسل سوشل میڈیا سے جڑے رہنے والے افراد میں تنہائی کا احساس ، ڈپریشن اور منتشر المزاجی کے رحجانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسمارٹ فون سے مسلسل جڑے رہنے والے افراد کے دماغ میں وہی نیورولاجیکل کنکشن دیکھنے میں آرہے ہیں جو کہ درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے افیون یا اسی نوعیت کی دیگر اشیا استعمال کرنے والے افراد کے دماغ میں بتدریج دیکھنے میں آتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کا سب سے زیادہ منفی اثر ہمارے سماجی رابطوں پر پڑا ہے۔ سان فرانسسکو اسٹیٹ یونی ورسٹی کے 135 طلبہ پر کیے جانے والے سروے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے کہ وہ طالب  علم جو کہ اپنی تمام نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کےدوران بھی اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان میں تنہا ئی کا احساس بڑھ رہا ہے‘ وہ ڈپریشن اور منتشر المزاجی کا شکار ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ طالب علم براہ راست ملاقات کے بجائے سوشل میڈیا پر  رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر استوار رابطوں میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ انسان کی باڈی لینگوئج، انسانی احساسات اور جذبات دوسری جانب اس  طرح منتقل نہیں ہوپاتے جس طرح کہ باضابطہ ملاقات میں ہوتے ہیں۔ مسلسل سوشل میڈیا پر جتے رہنے کے سبب انسا ن کے جسم اور ذہن کو  پرسکون حالت میں لانے والا وفقہ بھی انتہائی کم ہوگیا ہے جس کے سبب ان کی ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں اور یکسوئی سے کام کرنے کی عادت بھی متاثر ہورہی ہے۔

پیپر اور ہاروے نے اپنی تحقیق کے دوران سب سے اہم بات جو نوٹ کی وہ یہ تھی کہ اس مسلسل سوش ل میڈیا سے جڑے رہنے کے عمل میں انسانی خواہش سے زیادہ کارپوریٹ ورلڈ کی خواہش کارگر ہے جو چاہتے ہیں کہ عوام ہر وقت ان کی پراڈکٹس کے ساتھ  مشغول رہیں اور ان کے منافع میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا الرٹس انسانی نفسیات پر بالکل ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے قدیم دور میں شیر یا کسی اور خطرناک جانور کی آواز سن کر انسانی حسیات بیدار ہوجایا کرتی تھیں۔ یعنی اب ہم کسی بڑے اور حقیقی خطرے کے بجائے سوشل میڈیا کی جانب متوجہ رہتے ہیں جس کے سبب انسان کی خطرات کا سامنا کرنے کی ہزاروں برس کے ارتقا سے حاصل کی جانے والی صلاحیت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین نے اپنی تحقیق میں یہ بھی کہا ہے کہ ان تمام مسائل کا حل ایک آسان نسخے میں چھپا ہے اور وہ ہے اپنے ذہن کو تربیت دینا۔ جیسا کہ ہم جب محسوس کرتے ہیں کہ چینی کی زیادتی ہمارے جسم کونقصان پہنچا رہی ہے تو ہم اپنےجسم کو کم چینی استعمال کرنے کا عادی بناتے ہیں ایسے ہی اگر ہم احساس کرلیں کہ  سوشل میڈیا ہماری ذہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو  ہم پش نوٹی فیکیشن الرٹس کو بند کرکے، ای میل چیک کرنے  سوشل میڈیا پر میسر ہونے کے اوقات مقرر کرکے ان  خطرات کا سامنا کرسکتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں