The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں ہینڈ سینی ٹائزر ذخیرہ کرنے والے بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا؟

امریکا میں 2 بھائیوں کو ہینڈ سینی ٹائزر ذخیرہ کرنے اور مہنگے داموں فروخت کرنے پر سخت تنقید اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑگیا جس کے بعد مجبوراً ان بھائیوں نے اپنا مال عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی ریاست ٹینیسی کے 2 بھائیوں میٹ اور نوح نے کرونا وائرس کے بدترین پھیلاؤ کو اپنے لیے موقع جانا اور 17 ہزار سے زائد سینی ٹائزر کی بوتلیں سستے داموں خرید کر اپنے پاس ذخیرہ کرلیں۔

انہوں نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب امریکا میں اس جان لیوا وائرس سے پہلی موت ریکارڈ ہوئی، تب تک لوگوں نے سپر اسٹورز سے دیوانوں کی طرح ٹوائلٹ پیپرز، ماسک اور سینی ٹائزر خریدنے شروع کردیے تھے اور اسٹورز ان سے خالی ہوگئے تھے۔

کئی اسٹورز میں ان اشیا پر گاہک آپس میں الجھ بھی پڑے اور ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔

ایسے میں دونوں بھائی اپنے گھر سے 13 سو میل دور ڈرائیو کر کے پڑوسی ریاست کینٹکی میں گئے اور وال مارٹ، ڈالر ٹری اور دیگر اسٹورز سے ٹرک بھر کر ہینڈ سینی ٹائزر اور اینٹی بیکٹیریل وائپس اٹھا لیے۔

بعد ازاں اپنے گھر آ کر انہوں نے ہر بوتل 70 ڈالر کی بیچی، انہوں نے آن لائن آرڈرز لے کر مختلف افراد اور ایمازون سمیت مختلف اسٹورز کو انہی مہنگے داموں سینی ٹائزر کی فروخت کی۔

دونوں بھائیوں نے ان اشیا پر 10 سے 15 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اسی دوران امریکی اخبار نیویارک ٹائمز ایک بھائی کا انٹرویو کرنے پہنچ گیا اور اس نے اس کا نام اور گھر کا پتہ شائع کردیا۔

بس پھر کیا تھا، سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ لوگوں نے ان بھائیوں کو سخت برا بھلا کہا کہ سپر اسٹورز ان ضرورت کی اشیا سے خالی ہو چکے ہیں اور یہ بھائی انہیں اپنے پاس ذخیرہ کیے بیٹھے ہیں۔

ان بھائیوں نے پہلے پہل اپنے اس عمل کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں، وہ لوگوں کو سپر اسٹورز میں ناخوشگوار صورتحال سے بچانے کے لیے ان کے گھروں پر سینی ٹائزر فراہم کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اگر وہ کچھ زیادہ پیسے لے رہے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔

تاہم جب انہیں باقاعدہ جان سے مارنے اور سبق سکھانے کی دھمکیاں ملنی شروع ہوئیں تو انہوں نے اپنا یہ کاروبار روک دیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے۔

عوام کے اس ردعمل پر اٹارنی جنرل نے بھی انہیں دھمکی آمیز نوٹس بھجوا دیا کہ اگر وہ مزید ایسی اشیا لے کر آئے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس سخت ردعمل کے بعد ان بھائیوں نے اپنے پاس موجود 18 ہزار سینی ٹائزر کی بوتلوں کا ذخیرہ اسپتالوں اور چرچ میں عطیہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم لوگ اب بھی انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں، سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ جب یہ فروخت نہ کرسکے تو مجبوراً عطیہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا میں کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 69 ہوچکی جبکہ 3 ہزار 782 افراد میں اب تک ہلاکت خیز وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

کیلی فورنیا، واشنگٹن اور فلوریڈا سمیت امریکا کی 15 سے زائد ریاستوں میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں