The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا صارفین کی حاضر دماغی نے نوجوان کی جان بچالی

سوشل میڈیا صارفین کی حاضر دماغی نے خودکشی کے خواہشمند نوجوان کی جان بچالی، اس نوجوان کی جان کیسے بچائی گئی؟ جانئے سربراہ ڈی سی اسلام آباد ٹاسک فورس کی زبانی۔

اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں چند روز قبل ایک نوجوان نے ٹوئٹر پر تھریڈ پوسٹ کی کہ میں اپنی زندگی سے بہت تنگ ہوں اور خود کشی کرنے والا ہوں، اب مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔

نوجوان کے الفاظ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا اور سوشل میڈیا پر سرگرم صارفین فوری طور پر الرٹ ہوئے اور نوجون کے تھریٹ کا نوٹس لیا اور اپنے ٹوئٹ کے زریعے مسلسل خودکشی کا نوٹ لکھنے والے شخص سے رابطے میں رہے اور اسے انگیج کئے رکھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے نوجوان کو انگیج رکھنے کے ساتھ ساتھ راولپنڈی پولیس کو بھی اس کی خودکشی سے متعلق نوٹ کو ٹیگ کیا اور یوں ایک نوجوان کی جان بچالی گئی۔

نوجوان کو خودکشی سے کیسے روکا گیا؟ اس حوالے سے سربراہ ڈی سی اسلام آباد ٹاسک فورس ایاب احمد نے باخبر سویرا میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب نوجوان نے خودکشی کا نوٹ ٹوئٹ کیا تو چالیس منٹ کے اندر یہ معاملہ ٹیگ ہونا شروع ہوا اور ہم تک پہنچا۔

ایاب احمد نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کا میکنزم ایسا ہے کہ اگر وفاقی داراحکومت کے شہری کو کسی بھی قسم کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو فوری طور پر ڈی سی اسلام آباد کی ٹیم کو ٹیگ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ راولپنڈی کا تھا مگر اسلام آباد پولیس نے اسے فوری ٹریس کیا اور راولپنڈی پولیس کو ٹیگ کیا، ہم نے اس مسئلے پر گفتگو کی، سی سی پی او اور آر پی او راولپنڈی نے فوری طور پر ایکشن لیا اور زوہیب نامی لڑکے جس کی عمر صرف پندرہ سال تھی اسے اپنی تحویل میں لیا۔

ڈی سی اسلام آباد ٹاسک فورس ایاب احمد نے باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکثر نوجوان اپنی مسئلہ کسی سے شیئر نہیں کرتے اور خود تنہائی کا شکار ہوجاتے ہے جس کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے، زوہیب کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کا معاملہ تھا۔

ایاب احمد نے اہم مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی ہراسگی کیسز میں بھی اس طرح کا معاملہ ہوتا ہے کہ متاثرہ لڑکی اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کا تذکرہ نہیں کرتی اور خودکشی کرنے پر مجبور ہوتی ہے، اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کے لئے اسلام آباد میں جنرل پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جاچکا ہے، جہاں ماہر نفسیات ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں، اس طرح کے واقعات کا شکار افراد کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ہماری ٹیم سے ضرور رجوع کرے۔
تاکہ معاشرے کے ان ناسوروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جاسکے ۔

سربراہ ڈی سی اسلام آباد ٹاسک فورس نے ایسے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ خود کو قید تنہائی سے نکالنے کے لئے اپنے راز دان بنائیں اور ان سے اپنی دل کی باتیں شیئر کریں۔

ٹوئٹر پر خودکشی کا نوٹ شیئر کرنے والے زوہیب کے اہل خانہ سے متعلق سربراہ ڈی سی اسلام آباد ٹاسک فورس نے بتایا کہ زوہیب کے ٹوئٹ کے جواب میں ایک اور ٹوئٹ سامنے آیا، جو کہ زوہیب کے بھائی کا تھا، اس نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ “میں ابھی اسکے ساتھ ہوں” وہ محفوظ ہے، تاہم جب پولیس اس زوہیب کے گھر پہنچی تو پتہ چلا کہ اس کا بھائی اس کے ساتھ نہیں رہتا، اس نے جھوٹی ٹوئٹ کی ہے۔

انہوں نے باخبر سویرا کے توسط سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا صارفین کو اسطرح کے گمراہ کن پیغامات دینے والوں کے لئے بھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں