The news is by your side.

Advertisement

فلسطینیوں سے یکجہتی، اطالوی ملازمین کا اسرائیل کیلئے ہتھیاروں کی لوڈنگ سے انکار

روم : اٹلی کی بندرگاہ پر کام کرنے والے ملازمین نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل بھیجے جارہے اسلحے کو بحری جہاز میں لادنے سے انکار کردیا۔

مقبوضہ فلسطین پر جاری صیہونی فورسز کی جارحیت کے خلاف تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز میں صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔

یورپی ملک اٹلی کی بندرگاہ پر کام کرنے والے ملازمین نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صیہونی ریاست اسرائیل بھیجا جانے والا اسلحہ بحری جہاز پر لادنے سے انکار کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جرآت مندانہ اقدام شمالی اٹلی کی مرکزی کمرشل پورٹ ٹسکنی میں ایک آزاد ٹریڈ یونین نے اٹھایا۔

ٹریڈ یونین کے کوآرڈینیٹر گیوانی سیراولو کا کہنا تھا کہ جب بھی اٹلی کی بندرگاہ پر اسلحے کی کھیپ لوڈ کی جاتی ہے تو ہم مداخلت کرتے ہیں اور ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں خاص طور پر اگر وہ کسی ایسے ملک میں جارہی ہوں جہاں عام شہریوں کا قتل عام کیا جارہا ہوں جیسے اس وقت فلسطین میں ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہماری مداخلت کے باوجود بندرگاہ پر اسلحے کی کھیپ آتی ہے تو ہم اس کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے انکار کردیتے ہیں۔

گیوانی سیراولو نے کہا کہ ہتھیاروں کی لوڈنگ سے انکار پر ہماری تنخواہیں کاٹ لی جاتی ہیں مگر عام لوگوں کے قتل میں تنخواہ کو جواز بناکر معاون نہیں بن سکتے۔

ٹریڈ یونین کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو یونین ہڑتال کا اعلان بھی کرسکتی ہے تاکہ ہتھیاروں کی سپلائی روکی جاسکے۔

یونین کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ ’ہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ٹرانسپورٹیشن میں سہولت کار نہیں بننا چاہتے، جو فلسطینیوں کو قتل کرتے ہیں’۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی اٹلی کی بندرگاہ پر کام کرنے والے ملازمین نے عام شہریوں کے قتل میں استعمال ہونے والے اسلحے کی سپلائی روکنے کےلیے باقاعدہ مہم کا بھی آغاز کردیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں