The news is by your side.

Advertisement

دنیا کے سب سے بڑے جھولے سے متعلق وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے

دبئی: دنیا کا بلند ترین جھولا سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا ہے، جو امارات کے پُرکشش نظارے دیکھنے کےلئے بہترین مقام کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔

عین دبئی منصوبے کا اعلان فروری دو ہزار تیرہ میں کیا گیا اور اسے 21 اکتوبر دو ہزار اکیس کو عوام کے لئے کھول دیا گیا، عین دبئی نے امارات میں سیاحت کو نئی جہت میں تبدیل کردیا یہ دبئی میں رہنے والے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے دبئی کے مسلسل عزم کا مظہر بھی ہے۔

عین دبئی کی تعمیر

اس شاہکار کی تعمیر میں دس سے زائد ممالک نے حصہ لیا، اسٹیل وہیل کا ڈھانچہ متحدہ عرب امارات ، جنوبی کوریا اور جرمنی میں تیار کیا گیا، برطانیہ ، فرانس اور ہالینڈ نے انجینئرنگ اور پراجیکٹ مینجمنٹ کی معاونت فراہم کیں۔

ڈھائی سو میٹر سے اونچائی پر بنائے گئے اس جھولے کو نصب کرنے کے لئے دو بڑی کرینوں کا سہارا لیا گیا، میموویٹ کو وہیل کے کلیدی ساختی عناصر نصب کرنے کے لیے ہیوی لفٹنگ کا ٹھیکہ دیا گیا جس نے تنصیب کے لیے دنیا کی سب سے بڑی کرین پی ٹی سی دو سو، ڈی ایس پانچ ہزارٹن رنگ کرین، اور تین ہزار ٹن کرالر کرین نے مل کر جوڑا۔

عین دبئی کے بارے میں کچھ حیران کن حقائق درج ذیل ہیں

عین دبئی برطانیہ کے لندن آئی نامی جھولے کی اونچائی سے تقریبا دوگنا 250 میڑ اونچا دنیا کا سب سے بڑا اور بلند جھولا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عین دبئی کے افتتاح پر کیا ہونے جارہا ہے؟ اہم اعلان ہوگیا

عین دبئی کی آمد کے ساتھ لندن آئی محض 135 میٹر کی دوری پر دنیا کے بلند ترین پہیوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ عین دبئی سے پہلے دنیا کا سب سے اونچا لاس ویگاس کا ہائی رولر جس کی اونچائی 167.5 میٹر ، سنگاپور فلائر 165 میٹر اور چین کا ستارہ نانچانگ 160 میٹر اونچا ہے۔

عین دبئی کے مشاہداتی کیبن سیاحوں کو خلیج عرب کے پانیوں پر دبئی کے 360 ڈگری کے نظاروں کے لیے بہترین مقام فراہم کرتے ہیں، مسافر پرتعیش کیبنوں جن کی کل تعداد 48 ہے میں سوار ہوتے ہیں جبکہ ہر ایک کیبن 40 سیاحون کو لے جانے کی گنجائش رکھتا ہے۔

اس کے پہیے کی ایک مکمل گردش میں 38 منٹ لگتے ہیں اور یہ چٹان کی طرح مستحکم ہے،اس دیو ہیکل جھولے کے 48 کیبنز میں بیک وقت 1،750 افراد امارات کے نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں