The news is by your side.

تصویر میں کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے، کیا آپ بھی اسے دیکھ سکتے ہیں؟

روسی مصور کی کلاسک پینٹنگ آپ کے سامنے ہے۔ آپ کو دھوکے میں ڈالتی تصویر میں ایک آدمی بھی موجود ہے جس کا چہرہ 5 سیکنڈ میں تلاش کرنا ہے۔

بصری وہم مختلف اقسام کا ہوتا ہے جیسے کہ لغوی، جسمانی یا علمی سطح پر دھوکا یعنی جو نظر آئے وہ حقیقت نہیں ہوتا سچائی جاننے کے لیے بعض اوقات پس منظر کو بہت گہرائی سے جاننا پڑتا ہے اور ہماری آج کی پہیلی بھی ایسی ہی ہے کہ جو نمایاں ہے حقیقت میں وہ پس منظر اور جو پس منظر ہے وہی تصویر کی حقیقت ہے۔

یہ نادر اور نایاب پینٹنگ روسی مصور ایگور لیسینکو کی ونٹیج پینٹنگ ہے، جو حقیقت پسندانہ فن کے ماہر تھے۔ تصویر کو دیکھیں تو پہلی نظر میں آپ کو ایک خوبصورت وادی میں پیلے لباس میں خاتون درخت کے ساتھ کھڑی نظر آئے گی۔

سبز، دھانی، پیلے اور نیلے رنگ کے امتزاج سے یہ تصویر آنکھوں کو ایک لطیف احساس بخش رہی ہے لیکن اس وقت ہم کہیں کہ دل و دماغ کو پرسکون کرتی اس تصویر کی حقیقت یہ نہیں بلکہ کچھ اور ہے تو پرسکون دماغ الجھنے لگے لگا۔

اگر آپ کا دماغ الجھ رہا ہے تو اسے دوبارہ پرسکون اور پرلطف کرنے کے لیے نظروں کو دھوکا دیتی اس تصویر کی حقیقت جاننے کے کھیل کا حصہ بنیں اور 5 سیکنڈ میں ایک آدمی کا چہرہ تلاش کریں۔

Jagranjosh

تصویر کو غور سے ہر زاویے کے ساتھ پرکھیں تو ایک آدمی کا چہری اس کلاسک پینٹنگ میں ہی چھپا ہوا ہے۔ آپ ایک باصلاحیت ہیں تو صرف آپ 5 سیکنڈ میں چھپے ہوئے آدمی کے چہرے کو دیکھ سکتے ہیں۔

مان لیں کہ مصوری کے شاہکاروں میں سے یہ ایک شاہکار آپ کی ذہانت اور مشاہدے کی مہارت کو چیلنج کر رہی ہے۔

وقت ختم ہوگیا۔ آپ میں سے کتنے لوگوں کو اس آدمی کا چہرہ ملا؟

اگر آپ چہرہ تلاش نہیں کرسکے تو اسکرول کریں نیچے آپ کا مطلوبہ جواب ہے لیکن جواب دیکھ کر آپ کے ذہن میں سب سے پہلے جو بات آئے گی وہ یقیناً یہی ہوگی کہ ’’میں تصویر میں چھپا آدمی کا چہرہ نہیں دیکھ رہا تھا لیکن وہ مجھے دیکھ رہا تھا‘‘۔

Jagranjosh

اگر آپ تصویر یا موبائل کو الٹا گھمائیں تو آدمی کا چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی آپ تصویر کو گھماتے ہیں تو آپ کا زاویہ نظر بدلتا ہے اور دلفریب منظر اور پیلے لباس میں نظر آتی عورت پر مبنی پینٹنگ فوری طور پر ایک مرد کے چہرے میں بدل جاتی ہے۔

تو کیسا رہا آج نظروں کا دھوکا؟ کتنے لوگ سرخرو ہوئے اور کتنے اسی دھوکے کا شکار رہے؟ کمنٹس سیکشن میں ضرور جواب دیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں