The news is by your side.

Advertisement

عزم و حوصلے کی مثال: معذور لڑکی مکینک بن گئی

بدین: دونوں پیروں سے معذور باہمت لڑکی چھوٹے بہن بھائیوں اور والدہ کی کفالت کے لیے موٹر سائیکل مکینک بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق ہمت اور حوصلہ ہو تو کوئی بھی معذوری مقصد کی تکمیل میں آڑے نہیں آسکتی، عزم کے آگے پہاڑ بھی رائے کے دانے کے برابر ہوجاتے ہیں۔

یہ الفاظ بدین کی معذور لڑکی لالی پر صادق آتے ہیں جس نے اپنی معذوری کو محتاجی کا سبب بنانے کے بجائے نئے عزم کے ساتھ زندگی سے لڑ کر اپنا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

women-post-1

ہمت و حوصلہ جیتے الفاظ لالی کی موجودہ مثالی زندگی کے لیے ناکافی ہیں جو تین چھوٹی بہنوں، دو چھوٹے بھائیوں اور والدہ کی واحد کفیل ہے، لالی نے مکینک بننے سے قبل لوگوں کے آگے ہاتھ بھی پھیلایا، گداگری بھی کی لیکن بالآخر اسے چھوڑ دیا۔

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے لالی نے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ معذور ہے اس کے باعث لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتی تھی تب بھی اس کا اور گھر والوں کا گزارا نہیں ہوتا تھا، بالآخر اس نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا۔

پاؤں نہیں تو کیا ،اللہ نے ہاتھ، آنکھیں اور دماغ تو دیا ہے، لالی

لالی کا کہنا تھا کہ اس نے سوچا کہ میرے پاس پاؤں نہیں تو کیا، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہاتھ ، آنکھیں اور دماغ تو دیا ہے، میں محنت مزدوری کیو ں نہ کروں؟

women-post-2

لالی نے اپنے عزم پر عمل کرنا شروع کیا جو اسے موٹر سائیکل مکینک ریاض کی دکان تک لے آیا، جس نے لالی بہن اور شاگرد بنایا اور اسے ہنر سکھایا۔

موٹر مکینک ریاض نے اے آر وائی نیوز کو بتایاکہ لالی گداگری کرتی تھی، بہت غریب ہے اس نے مجھ سے موٹر مکینک کا کام سیکھنے کی درخواست کی، میں نے اسے گداگری ترک کرنے کا کہا اور وہ کام سیکھنے آنے لگی۔


باہمت اورمثالی لڑکی لالی کی جانب سے گداگری کا پیشہ ترک کرکے روزگار حاصل کرنے کا باعزت پیشہ حاصل کرنے کا عمل معاشرے کے عضو معطل اور معذور افراد کے لیے ایک سبق ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں