The news is by your side.

‘ چند اشخاص کیجانب سے گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ‘

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ چند اشخاص کی طرف سے فنڈنگ فیصلے پر گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گی ہے کہ چند اشخاص کی جانب سے گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ پر عجلت میں دو فیصلے دیے گئے ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 8 سال بعد آنے والے فیصلے میں عجلت ڈھونڈنے والوں پر حیرانی ہے۔ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے ایک ہی فیصلہ دیا ہے جو دستخط شدہ ہے اور یہ فیصلہ آفیشل ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد سے پی ٹی آئی کے ڈونرز کا سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے پی ٹی آئی کو فنڈز دینے والے ایک اور ڈونر سامنے آگئے اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض اٹھادیا ہے۔

کمپنی مالک شعیب احمد بسرا نے کہا کہ نیشنل فروٹ پروسیسنگ فیکٹری بھلوال سرگودھا میں ہے، 2011 میں پی ٹی آئی کو 10ہزار 500 روپے فنڈز دیئے تھے۔

شعیب احمدبسرا نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے میری کمپنی کوفارن فنڈنگ کمپنی کی فہرست میں ڈال دیا ، الیکشن کمیشن نےفیصلےمیں میری کمپنی کوکینیڈین کمپنی ظاہر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے مزید ڈونرز سامنے آگئے، الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض

آصف خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کیا مضحکہ خیز فیصلہ اور تفتیش ہے، میں نے اپنی کمپنی کے پے پال اکاؤنٹ سے2013 میں 100 ڈالرعطیہ دیا، الیکشن کمیشن نے میری سابقہ کمپنی پرابسٹ ان کارپوریشن کا نام ڈال دیا۔

برطانیہ میں رہنے والی ایک اور ڈونر بینش فریدی نے بھی الیکشن کمیشن فیصلے کو مضحکہ خیزقرار دے دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں