The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 359 ہوگئی

کولمبو : سری لنکا میں تین روز کا سوگ منایا جارہا ہے، ایسٹر کے موقع پر ہونے والےسری لنکا دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 359 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق سری عیسائیت کے مذہبی ایسٹر کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں مسیحی برادری خوشی منارہی تھی وہیں سری لنکا میں سوگ منایا جارہا تھا جہاں دہشت گردوں نے ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں کو دھماکوں سے تباہ کردیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 359 تک جاپہنچی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کولمبو میں ہائی الرٹ ہے جبکہ رات آٹھ بجے سے صبح چاربجے تک کرفیو بھی بدستور نافذ ہے۔

داعش نے سری لنکا بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی

واضح رہے کہ شدت پسند تنظیم داعش نے سری لنکا کے گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم خودکش بمبار کے نام اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکوں کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیز نے خبردار کیا تھا کہ نیشنل توفیق جماعت حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے، لیکن یہ معلومات وزیراعظم کے دفتر میں دھماکوں کے بعد موصول ہوئیں۔

سری لنکا کے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ تمام حملہ آور سری لنکا کے شہری تھے جبکہ حکام نے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ حملے میں غیر ملکی ملوث ہیں۔

امریکا نے سری لنکا میں مزید ممکنہ دہشت گرد حملوں سے خبردار کردیا

خیال رہے کہ امریکا نے سری لنکا میں مزید ممکنہ دہشت گردوں حملوں سے خبردار کیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر بنا کسی پیشگی انتباہ کے حملے کرسکتے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے سری لنکا کا سفر کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گرد جماعتیں سری لنکا میں ممکنہ حملوں کے لیے منصوبہ بندی کررہی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق دہشت گردوں کے ممکنہ اہداف میں سیاحتی مقامات، ٹرانسپورٹ اسٹیشنز، تجارتی مراکز، ہوٹلز، عبادت گاہیں، ہوائی اڈے اور دیگر مقامات شامل ہیں۔

یہ انتباہ دو روز قبل سری لنکا میں مختلف مقامات پر گرجا گھروں اور بڑے ہوٹلوں کو دھماکوں کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں