The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

سری لنکا میں معاشی بحران شدید تر ہو گیا، ابتر معاشی صورتحال میں ادویات کی قلت کے باعث ملک میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا میں کرفیو اور حکومت مستعفی ہونے کے بعد ملک کو کئی بحرانوں نے گھیر لیا ہے۔ ایک جانب کھانے پینے اور اشیاء ضرورت کی کمی واقع ہوئی ہے تو دوسری جانب ادویات کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک میں دوا، ایندھن، آلات کی کمی اور بار بار بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔
سری لنکن گورنمنٹ میڈیکل آفیسر ایسوسی ایشن نے ایک بیان کہا ہے کہ موجودہ ابترمعاشی اور مالیاتی صورتحال نے صحت کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے جس سے ادویات، طبی آلات، آکسیجن کی قلت پر ہنگامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف ہنگامی علاج کو ہی ترجیح دی جائے گی عوام کو ایمرجنسی صورتحال میں ہی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

سری لنکا اس وقت اپنے تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح 17 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جس کے باعث وہاں کے شہریوں کی زندگی انتہائی اذیت ناک ہوگئی ہے، بنیادی اشیائے ضروریہ بھی مہنگئی ہونے کے باعث عوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں۔

گزشتہ ماہ مارچ میں ہی سری لنکن روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 46 فیصد تک گر گئی ہے اور ایک ڈالر 201 سری لنکن روپے سے بڑھ کر 295 سری لنکن روپے کا ہوگیا ہے۔

سری لنکا نے اتوار کو عارضی طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کو محدود کر دیا ہے، ان پلیٹ فارمز میں فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں