The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا میں برقع پر پابندی لگنے کا امکان

کولمبو: سری لنکا میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے بعد اراکین اسمبلی نے برقع پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانونی سازی پر غور شروع کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد برقع پر پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

سری لنکن پارلیمنٹ کے رکن اسمبلی اشومارا سنگھے نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں تاہم اب برقع اور نقاب لینے پر پابندی لگانے کے لیے غور کیا جارہا ہے۔

اشومارا سنگھے نے مزید کہا کہ سری لنکا میں عمومی طور پر مسلمان خواتین بھی برقع یا نقاب نہیں لیتی ہیں لیکن کچھ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں، چہرہ ڈھک لینے سے شناخت ممکن نہیں ہوتی جس کا دہشت گرد فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے 8 خودکش دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں سوئٹزرلینڈ میں عوام کی بڑی تعداد نے خواتین کے برقع پہننے پر پابندی کے حق میں رائے دی جس کے بعد برقع پہننے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

یاد رہے کہ حجاب، نقاب یا برقع جیسی مختلف شکلوں میں ایسا زیادہ تر مذہبی سوچ کی حامل مسلم خواتین کی طرف سے کیا جاتا ہے، عرف عام میں سینٹ گالن میں اس ریفرنڈم کو برقعے پر پابندی یا ’برقعہ بین‘ کا نام دیا جا رہا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں