The news is by your side.

Advertisement

ملک میں این 95 ماسک اور ٹمریچر گنز کی تیاری پر کام جاری

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں سینی ٹائزر اور وینٹی لیٹرز بنائے جارہے ہیں، این 95 ماسک، فیس شیلڈ، ٹمریچر گنز اور ویکسین کی تیاری پر کام جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشتاق احمد کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کرونا وبا کے دوران پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت دیگر شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

اجلاس میں کرونا وائرس کے دوران وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار پر بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کونسل فار انڈسٹریل ریسرچ نے سینی ٹائزرز تیار کیے۔

سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ اس وقت یورپ اور امریکا میں سینی ٹائزرز برآمد کر رہے ہیں، کرونا وائرس پر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اسپرے گنز ڈرونز اور سینی ٹائزرز بھی دفاعی ادارے بنا رہے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ این 95 ماسک، فیس شیلڈ، ٹمریچر گنز اور ویکسین کی تیاری پر کام جاری ہے۔ سینی ٹائزر اور وینٹی لیٹرز ہم بنا چکے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے وبا کے دوران وزارت سائنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دیے۔

چیئرمین کمیٹی نے دریافت کیا کہ کرونا وائرس کے فنڈز کہاں گئے، کیا این ڈی ایم اے ریسرچ ادارہ ہے؟ سینٹر ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس میں این ڈی ایم اے اور وزارت خزانہ حکام کو بلایا جائے۔

کمیٹی ارکان کا کہنا ہے کہ ویکسین پر کام وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحقیقی اداروں نے ہی کرنا ہے، وزارت سائنس کے ذیلی اداروں کو نظر انداز کرنے سے سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

چیئرمین انجینیئرنگ کونسل کا کہنا تھا کہ اس وقت مڈل ایسٹ اور افریقہ کی مارکیٹ کھلی ہے، پاکستان وینٹی لیٹرز برآمد کر کے زر مبادلہ کما سکتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے دریافت کیا کہ کیا پاکستانی وینٹی لیٹرز ملک میں بن رہے ہیں یا اسیمبل ہو رہے ہیں؟ جس پر بتایا گیا کہ اس وقت دونوں کام ہو رہے ہیں جو پارٹس نہیں بن رہے وہ منگوائے جارہے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں