The news is by your side.

Advertisement

ڈالر کی مسلسل بلند پرواز نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، ماہر معاشیات

ڈالر کی مسلسل بلند پرواز جاری ہے اور ایک ڈالر کیلیے پاکستانی 212 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں ماہر معاشیات مزمل اسلم نے اسے خطرے کی گھنٹی قرار دیدیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈالر کی مسلسل بلند پرواز جاری ہے اور کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر اوپن مارکیٹ میں 212 روپے کا ہوگیا، شہباز حکومت کے دو ماہ کی مختصر مدت کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں 36 روپے 73 پیسے کی ریکارڈ کمی واقع ہوچکی ہے۔

ڈالر کی اونچی اڑان سے ایک جانب ملک میں مہنگائی کا طوفان آچکا ہے تو دوسری جانب ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اپنی تاریخ کی نچلی ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں جس کو ماہر معاشیات اور وزارت خزانہ کے سابق ترجمان مزمل اسلم نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات بہت تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔

مزمل اسلم نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملک کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے ہیں جس کا مطلب ڈیڈ لیول ہے۔

سننے میں آرہا ہے کہ نجی بینک تو ڈالر دے ہی نہیں رہے ہیں اور یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ہمت ہار لی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ دو روز بعد امریکا جائیں گے کہ آئی ایم ایف معاملے میں مداخلت کریں۔

ماہر معاشیات نے کہا کہ اس قسم کی خبریں آئیں گی تو مارکیٹ میں اعتماد کا فقدان تو ہوگا، حالات بہت تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں، حالات کا تقاضہ ہے کہ موجودہ حکومت کو فوری طور پر شفاف الیکشن کی طرف جانا چاہیے، نئی حکومت آئے گی تو شاید اعتماد بحال ہو اور معاملات کچھ بہتر ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں