The news is by your side.

Advertisement

متعدد کائناتوں کی موجودگی سے متعلق اسٹیفن ہاکنگ کی آخری تحقیق

لندن: آنجہانی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کی آخری تحقیق بھی سامنے آگئی جس میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ  پر صرف  ہماری کائنات اکیلی نہیں بلکہ اس جیسی متعدد کائناتیں موجود ہیں جنہیں عام انسان نہیں دیکھ سکتا۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی موت سے 10 روز قبل ایک خط تحریر کر کے جرنل آف ہائی انرجی فزکس کو ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے دیگر کائناتوں کی موجودگی کا انکشاف کیا۔

پروفیسر ہاکنگ بستر مرگ تک اس بات کا جواب تلاش کرنے کے لیے سرگرداں تھے کہ ہمارے یعنی انسانوں کے علاوہ دنیا میں اور کتنی مخلوقات ہیں اور ایسی ہی کتنی رنگین کائناتیں موجود ہیں؟۔

آنجہانی پروفیسر نے اپنی آخری تحقیقاتی تحریر میں ماہرینِ فلکیات کی رہنمائی کا بھی تذکرہ کیا جس کے مطابق زمین کے علاوہ متوازی کائناتوں کے شواہد موجود ہیں، جو آنے والے وقتوں میں عام انسان کو نظر آنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں

اسٹیفن ہاکنگ کی آخری تحریر 20 سالہ محنت کا ثمر ہے جس میں سائنسی نظریے ’اسٹرنگ تھیوری‘ میں استعمال ہونے والی پیچیدہ ریاضی کی تکنیک کو بھی شامل کیا گیا تاکہ آنے والے وقتوں میں سائنسی ماہرین یا طالب علم اس سے استفادہ حاصل کرسکیں۔

اس ضمن میں پروفیسر ہرٹوگ کا کہنا ہے کہ اسٹیفن نے اپنی آخری تحریر میں یہ بات تحریر کی کہ فزکس قوانین کے تحت ہماری جیسی کئی کائناتیں مستقبل میں وجود میں آسکتی ہیں، یہ تصورات ذہن کو چکرا سکتے ہیں تاہم اس خط کے ذریعے سائنس دانوں کو کائنات کے وجود میں آنے کا حتمی نظریہ قائم کرنے میں مدد بھی ملے گی۔

واضح رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی کے معروف ماہر طبیعات تھے، آپ کو آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائئنسدان قرار دیا جاتا تھا۔ پروفیسر نے زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات کے میدان میں کیا اور زندگی بھر اس گھتی کو سلجھانے کی کوشش کی کہ انسانوں کو کسی طرح دیگر کائناتوں کی موجودگی کے حوالے سے قائل کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیفن ہاکنگ دنیا کے لیے مثالی شخصیت تھے

اسٹیفن ہاکنگ نے ویسے تو متعدد کتابیں تحریر کیں جن میں سے اُن کی ایک کتاب A Brief History of Time  آسان الفاظ میں لکھی گئی جس سے ایک عام قاری اور اعلیٰ ترین محقق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس کتاب کو انقلابی حیثیت حاصل ہوئی۔

اسٹیفن ہاکنگ دماغی طور پر تو صحت مند تھے تاہم جسمانی طور پر وہ ایک خطرناک بیماری سے مبتلاء تھے جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر اور پاؤں تک ہلانے کے قابل نہیں تھے، اس تمام تر صورتحال کے باوجود آنجہانی پروفیسر نے بلند حوصلے کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا اور اپنے خیالات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

واضح رہے کہ برطانوی سائنسدان نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ انسان جس خلائی مخلوق کی کھوج میں ہے وہ اس کے لیے تباہی لائے گی، ایسی کوئی مخلوق زمین پر آئی تو وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد ریڈ انڈینز کے ساتھ ہوا تھا۔

اسے بھی پڑھیں: کیا اسٹیفن ہاکنگ مر چکے ہیں؟

پروفیسر ہاکنگ نے کہا تھا کہ اجنبی مخلوق سے رابطوں کی کوشش کے بجائے ان سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے، سائنس دانوں نے خلا میں ایسے مشن بھیجے ہیں جن پر انسانوں کی تصویریں اور زمین تک پہنچنے کے نقشے تھے، ممکنہ خلائی مخلوق سے رابطے کے لیے ویڈیو بیمز بھی بھیجی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ہالی ووڈ اداکار ایڈی ریڈمائن نے 2014 میں بنائی جانے والی فلم ‘دی تھیوری آف ایوری تھنگ‘ پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ کا کردار ادا کیا تھا جبکہ ان کی اہلیہ کا کردار اداکارہ فلیسٹی جونز نے نبھایا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں