site
stats
سندھ

کراچی میں لوٹ مار، ڈاکؤوں نے خاتون پرنسپل کو گولی ماردی

کراچی: شہر قائد میں لوٹ مار کے دوران ڈاکؤوں نے خاتون پرنسپل کو گولی ماردی، ایک ہفتے میں دوخواتین سمیت 3 افراد قتل کردیئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں لوٹ مار کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا، پولیس شہرمیں اسٹریٹ کرائم کی روک تھام میں تاحال ناکام ہے، موبائل فون چھیننے کے دوران ڈاکؤوں کی فائرنگ سے اسکول پرنسپل جاں بحق ہوگئیں۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو خواتین سمیت 3 افراد کو ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران قتل کیا گیا۔

سولجربازار کے علاقے میں خاتون اسکول پرنسپل اپنے شوہر کے ساتھ گھر جارہی تھیں، اسٹریٹ کرمنلز نے ان کی گاڑی روک کر موبائل فونز مانگے تھے، خاتون کے شوہر موبائل فون اٹھانے کیلئے جیسے ہی جھکے تو ڈکیتوں نے فائرنگ کردی۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سعود آباد میں خاتون اور سہراب گوٹھ میں ایک شخص فائرنگ سے زخمی ہوگیا، اس کے علاوہ مختلف وارداتوں میں ایک پولیس اہلکار،ادکار اور دو خواتین سمیت سات افراد زخمی بھی ہوئے۔


مزید پڑھیں: کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد واقعات میں اضافہ


واضح رہے کہ سی پی ایل سی کی جانب سے رواں سال نومبر تک کی اسٹریٹ کرائم رپورٹ جاری کردی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ گیارہ ماہ میں شہر کراچی میں27 ہزار 219 شہریوں کو موبائل فون سے محروم کردیا گیا اور 23 ہزار553 شہری اسلحہ کے زور پراپنی موٹرسائیکلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top