سیکنڈ ایئر کی طالبہ علم فلکیات کی ستارہ -
The news is by your side.

Advertisement

سیکنڈ ایئر کی طالبہ علم فلکیات کی ستارہ

کوئٹہ : اسلامی گرلز کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ نورینہ شاہ نے علم فلکیات پر اپنے مطالعے اور تجزیے سے پوری دنیا کو حیران کردیا ہے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دنیا بھر کے ماہرین فلکیات نے پاکستانی طالبہ کے فن اور مہارت کو سراہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نورینہ شاہ کوئٹہ کے اسلامیہ گرلز کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں وہ فلکیات میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اورماہرین فلکیات کی کتابوں کا مطالعہ اس طالبہ کا واحد مشغلہ ہے،علم فلکیات کے مستقل مطالعے اور مشاہدے سے نورینہ نے اس مضبون میں حیرت انگیز مہارت حاصل کر لی ہے۔

نورینہ شاہ علم فلکیات کے حوالے سے اپنے خیالات،تجزیے اور مشاہدے کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر پیش کرتی رہتی تھی ،ان کی پوسٹوں نے بہت سے بین الاقوامی ماہرین کو اپنی طرف متوجہ کیا جن میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی شامل ہیں یوں کم سن طالبہ کی فلکیات میں مہارت کو بین الاقوامی طور پر سراہا جانے لگا۔

نورینی شاہ بلوقچستان کہ ایک پسنماندہ علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں عام طور پر خواتین کی تعلیم کو معیوب سمجھاجاتا ہے اور اسکول جانے والی طالبات شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں اور خوف و ہراس کا سامنا رہتا ہے اس کے باوجود کم سن طالبہ کی علم محبت اُن کے والد کی مرہون منت ہے، نورینہ کے والد کوئٹہ کے سول اسپتال میں بہ طور اسٹور کیپر فراءض انجام دے رہے ہیں ،نورینہ کے والد نے کہا کہ میری بچی باصلاحیت ہے تاہم میں اس کے اعلیٰ تعلیم کے اخراجات اُٹھانے سے قاصر ہوں تا ہم اگر وسائل ہوں تو بچی کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک بھیجوانے سے گریز نہیں کروں گا۔

دنیا بھر میں مشہور ہونے کے بعد پاکستان میں بھی نورینہ شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے فخر ہے کہ اقوامِ متحدہ نے میرے کام کو سراہا”،انہوں نے بتایا کہ علم فلکیات کا شوق انہیں آٹھویں جماعت سے ہوا اور جلد ہی انہوں نے ستاروں، سیاروں، اور چاند کی تصویریں لینے کے نت نئے ڈھنگ سیکھ لیے جسے ٹیوٹر پر اپ لوڈ کرتی رہیں جہاں سے ماہرین فلکیات طالبہ کی مہارت سے روشناس ہوئے۔

نورینہ کے مطابق ان کے گھر والوں نے علم فلکیات سے دلچسپی پر روک ٹوک کے بجائے حوصلہ افرائی کی،تاہم نورینہ نے اس امر پر غم کا اظہار کیا کہ اسکول کی سطح پر علم فلکیات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی لہذا فلکیات پر ریسرچ کے لیے صرف انٹرنیٹ ہی ایک ذریعہ تھا،اگر سوشل میڈیا کے استعمال کرنا نہیں جاتی تو مجے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

عالمی سطح پر نورینہ کو پذیرائی اس وقت حاصل ہوئی جب برطانیہ کے ایک رسالے (Eduzine Global) نے پہلی مرتبی اُن کا انٹرویو چھاپا یہ رسالہ کم وسائل رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں کے کاموں کی سراہتا اور اور عوام تک پہنچاتا ہے یہ رسالہ ایسے خصوصی نوجوان جو پیدائشی طور کسی معذوری کا شکار ہوتے ہیں کی صلاحیتوں سے بھی دنیا کو روشناس کراتا ہے۔

Norina-Post

اپنی رویات کو برقرار رکھتے ہوئے میگزین نے نورینہ شاہ کی صلاحیتوں کو نہ صرف پوری دنیا میں روشناس کروایا بلکہ انہیں جنوبی ایشیا کی نوجوان سفیر کا اعزاز بخشا اور اپنی ویب سائیٹ پر طالبہ کو روشن ستارہ کے خطاب سے نوازا۔

نورینہ شاہ کی صلاحیتوں کا اعتراف اس سے قبل 2014 میں اسی میگزین کے (Global ACE Young Achiever Awards) میں دوسرے نمبر پر آئی تھیں اس کامیابی پر نہ صرف انہیں ایک سرٹیفیکیٹ اور ایک دور بین کا انعام دیا گیا تھا بلکہ میگزین میں ان کے متعلق ایک آرٹیکل بھی شائع کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں