The news is by your side.

Advertisement

سوڈان میں فوجی حکمرانوں کے خلاف مظاہرے جاری، مزید 11 شہری جاں بحق

خرطوم:سوڈان میں فوجی حکمران کے خلاف احتجاج کے دوران تصادم اور فائرنگ سے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 11 شہری جاں بحق ہوگئے، عسکری کونسل کا کہنا ہے کہ مظاہرین صدارتی محل اور ملٹری ہیڈ کوارٹرز کی جانب مارچ کررہے ہیں

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکومت کو سول افراد کے حوالے کرنے کے حق میں مظاہرہ کرنے والے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز میں جاری جھڑپوں کے دوران مختلف علاقوں میں کئی شہری زخمی بھی ہوگئے ۔سوڈان کے دارالحکومت خرطوم اور دیگر شہروں میں 30 جون کو مظاہرین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی تھی اور گزشتہ ماہ حکومت پر قبضہ کرنے والے فوجی حکمرانوں سے دست برداری کا مطالبہ کررہی تھی۔

سماجی رہنما ناظم سیراج کا کہنا تھا کہ جڑواں شہروں خرطوم اور اومدرمان میں ایک اسکول سے 3 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تین افراد ہسپتال لے جاتے ہوئے اس وقت جاں بحق ہوئے جب سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شہریوں پر فائر کھول دیا۔

ناظم سیراج کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 11 ہوگئی جن میں سے ایک زخمی دارالحکومت خرطوم کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گیا اس کے علاوہ ایک شہری کی لاش ابطارہ کے علاقے سے ملی جہاں سے گزشتہ دسمبر میں سابق صدر عمرالبشیر کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا تھا۔سوڈان کے ڈاکٹروں کی تنظیم سوڈانیز پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

دوسری جانب حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں کے دوران کم ازکم 7 افراد مارے گئے اور 200 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے 27 افراد کو مظاہروں کے دوران گولی لگی تھی۔ادھرفوجی کونسل کے رکن لیفٹیننٹ جنرل غامل عمر کا کہنا تھا کہ یہ قابل افسوس ہے کہ فورسز آزادی اور تبدیلی کے لیے کام کررہی ہے جبکہ مظاہرین صدارتی محل اور ملٹری ہیڈکوارٹرز کی جانب مارچ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ انہوں نے پتھراو ٔکیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل غامل عمر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران 3 افراد جاں بحق اور پیراملٹری فورس کے 3 اہلکار زخمی ہوگئے اس کے علاوہ ملک بھر میں درجنوں اہلکار زخمی ہوئے ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں