The news is by your side.

Advertisement

سوڈان میں نمازیوں نے معزول صدر کے قریبی ساتھی کو مسجد سے نکال دیا

خرطوم : سوڈان میں معزول صدر عمرالبشیر کے مقربین پر عرصہ حیات مزید تنگ ہو رہا ہے، سابق صدر قریبی ساتھی ابراہیم السنوسی کو نمازیوں نے مسجد سے بھی نکال دیا۔

تفصیلات کے مطابق سوڈان میں معزول صدر عمرالبشیر کے مقربین پر عرصہ حیات مزید تنگ ہو رہا ہے، سابق صدر کے مقربین اب عوام کا سامنا کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں جامع مسجد الکبیر میں نماز کے بعد سابق صدر کے ایک قریبی رہ نما ابراہیم السنوسی نے وہاں موجود شہریوں سے بات کرنے کی کوشش کی مگر لوگوں نے اسے مسجد سے نکال دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مطا ابراہیم السنوسی کی عوام سے مخاطب ہونے کی کوشش کے ساتھ ہی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے خلاف اور عسکری کونسل کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

نمازیوں نے السنوسی سے کہا کہ وہ بھی عبوری عسکری کونسل کے فیصلوں کی پابندی کریں، شہریوں کی شدید نعرے بازی کے بعد ابراہیم السنوسی کو مسجد سے بھاگنا پڑا، مسجد سے نکلنے کے بعد بھی لوگوں نے اس کا پیچھا اور مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔

مزید پڑھیں : سوڈان : فوجی کونسل کے سربراہ نے ایک دن بعد ہی استعفیٰ دے دیا

خیال رہے کہ سوڈان کی فوجی کونسل کے سربراہ و وزیر دفاع عود بن عوف نے سابق آمر عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے ایک دن بعد ہی استعفیٰ دے دیا تھا، عود ابن عوف نے اپنے فیصلے کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کیا۔

فوجی کونسل کے سربراہ عود بن عوف نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح عبدالرحمان برہان کو اپنا جانشین نامزد کردیا، فوج کا کہنا ہے کہ 2 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد انتخابات کرائے گی۔

مزید پڑھیں : سوڈان میں مارشل لاء نافذ، ملک چلانے کے لیے عبوری کونسل تشکیل، صدرگرفتار

یاد رہے کہ سوڈانی عوام گزشتہ تین مہینوں نے صدر عمر البشیر کے خلاف مظاہرے کررہے تھے جو آج رنگ لے آئے اور صدر عمر حسن البشیر صدارت سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد انہیں فوج نے گرفتار کرکے نظر بند کردیا تھا اور وہ تاحال نظر بند ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوج نے ملک کے انتظامی امور چلانے کے لیے جنرل عود بن عوف کی سربراہی میں ایک عبوری کونسل تشکیل دے دی ہے، جنرل عود سبک دوش ہونے والے صدر عمر البشیر کے نائب اول اور سوڈان کے وزیر دفاع ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں