The news is by your side.

Advertisement

فوج اقتدار سے چمٹی رہی تو ملین مارچ کریں گے، سوڈانی اپوزیشن کی دھمکی

خرطوم : سوڈان میں مظاہرین کے رہنماوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملک کے فوجی حکمرانوں نے ان کے مطالبات نہ مانے اور اقتدار سویلین انتظامیہ کو نہ سونپا گیا، تو وہ عام ہڑتال کی کال دے سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین کے رہنما صدیق فاروق نے کہا کہ اگر ملکی فوج عبوری حکومت سے الگ نہیں ہوتی، تو وہ ملین مارچ اور ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال بھی کر سکتے ہیں۔

حال ہی میں بڑے عوامی مظاہروں کے بعد سوڈان میں برسوں تک حکومت کرنے والے عمر البشیر کا اقتدار ختم ہو گیا تھا، تاہم تب سے اقتدار عبوری طور پر ملکی فوج کی ایک کونسل نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی تنظیموں سمیت افریقہ کی یونین نے بھی سوڈانی فوج پر ڈباؤ ڈالا تھا کہ وہ سویلین تک اقتدار منتقل کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ افریقی یونین کے رہنماؤں نے قاہرہ میں منعقدہ اجلاس میں سوڈان میں حکمران فوجی کونسل کو ملک میں جمہوری اصلاحات کے لیے تین ماہ کی مہلت دی ہے۔

قبل ازیں سوڈان کی عبوری فوجی قیادت کو اقتدار کی سول قیادت کو منتقلی کے لیے گزشتہ ہفتے صرف پندرہ دن کی مہلت دی تھی، جو اب تین ماہ کردی گئی تھی۔

دریں اثنا افریقی یونین کے ایک سربراہی اجلاس کے بعد مصری صدر السیسی نے منگل کے روز قاہرہ میں کہا کہ سمٹ کے شرکاء نے سوڈانی فوج کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سوڈان کی فوجی کونسل کے سربراہ و وزیر دفاع عود بن عوف نے سابق آمر عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے ایک دن بعد ہی استعفیٰ دے دیا تھا، عود ابن عوف نے اپنے فیصلے کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کیا۔

سوڈان میں سیاسی ومعاشی بحران، سعودی عرب اور یو اے ای کا امداد کا اعلان

فوجی کونسل کے سربراہ عود بن عوف نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح عبدالرحمان برہان کو اپنا جانشین نامزد کردیا، فوج کا کہنا ہے کہ 2 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد انتخابات کرائے گی۔

یاد رہے کہ سوڈانی عوام گزشتہ تین مہینوں نے صدر عمر البشیر کے خلاف مظاہرے کررہے تھے، صدر عمر حسن البشیر صدارت سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد انہیں فوج نے گرفتار کرکے نظر بند کردیا تھا اور وہ تاحال نظر بند ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں