تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

’’میڈیا اور سوشل میڈیا لوگوں کی نفسیات پر گہرا اثر ڈال رہا ہے‘‘

کراچی: نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے کہا ہے کہ خود کشی کے رجحان کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا، اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا لوگوں کی نفسیات پر گہرا اثر ڈال رہا ہے، بدقسمتی سے مایوس کن خبریں و اقدامات سے لوگوں کی بے چینی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز خودکشی سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر کاروان حیات کے تحت کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے کہا لوگوں کے خودکشی کرنے کے پیچھے ذہنی و جسمانی امراض، رویوں و نفسیاتی مسائل موجود ہوتے ہیں، ان مسائل و امراض کی بروقت تشخیص و علاج کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے کہا ’’میرے مریض اور تیماردار بھی مجھ سے آئے روز ملک کو درپیش مختلف مسائل اور بحرانوں پر بات کرتے ہیں، حالاں کہ اس میں نہ ان کا کردار ہوتا ہے نہ ہی وہ براہ راست متاثر ہوتے ہیں، لیکن میڈیا، سوشل میڈیا اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کے وساطت سے اتنا کچھ مایوس کن سن اور دیکھ چکے ہوتے ہیں، کہ بعض اوقات مثبت خبر بھی ان کے لیے بے معنی ثابت ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ دو سال قبل ہی سوشل میڈیا و ٹی وی سے خود کو لاتعلق کر چکے ہیں، جو ان کے لیے کسی حد تک ذہنی سکون کا باعث ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر جو کم و بیش 499 کیسز کامیابی سے نمٹا چکا ہوتا ہے لیکن اگر 500 واں کیس ذرا اوپر نیچے ہو جائے تو منظر عام پر صرف یہی آتا ہے اور باقی 499 کامیاب کیسز غائب ہو جاتے ہیں، یہ افسوس ناک پہلو ہے۔

سیمینار سے ماہرین نفسیات سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ، ڈاکٹر ثنا صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر حیدر نقوی، پروفیسر ڈاکٹر قدسیہ طارق، پروفیسر ڈاکٹر نعیم صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر عمران بشیر چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی، ڈاکٹر ثناء اللہ، اجمل کاظمی و دیگر نے بھی کمیونٹی کے پس ماندہ طبقوں میں ذہنی بیماری، خودکشی کی روک تھام کے بارے میں بیداری بڑھانے، قیمتی معلومات فراہم کرنے اور اس قومی بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کارروائی کا حصہ بننے کے لیے حوصلہ افزائی پر خطاب کیا اور شرکا کے سوالات کے جوابات دیے۔

Comments

- Advertisement -