The news is by your side.

Advertisement

لیجنڈری اداکار سلطان راہی کی وہ فلم جسے سنیما سے گویا اُچک لیا گیا تھا

فروری 1979ء میں نام وَر فلم ساز سرور بھٹی اور ہدایت کار یونس ملک کی فلم ’مولا جٹ‘ بڑے پردے پر نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ فلم کے دو مرکزی کردار سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی تھے۔

اس فلم میں سلطان راہی کو ایک نیک سیرت انسان اور مصطفیٰ قریشی کو ایک بدمعاش کے روپ میں‌ پیش کیا گیا تھا۔ اس فلم نے کام یابی کا وہ ریکارڈ قائم کیا جس کی انڈسٹری میں مثال نہیں ملتی۔ باکس آفس پر فلم اس قدر ہٹ ہوئی کہ اس کی نمائش مسلسل ڈھائی سال تک جاری رہی اور لوگوں نے فلم دیکھنے کے لیے متعدد بار سنیما کا رخ کیا۔

مشہور رسالہ "شمع” (نئی دہلی) میں "ستاروں کی دنیا” کے عنوان سے یونس دہلوی کا مقبولِ عام کالم بھی شایع ہوتا تھا جو اس رسالے کے مدیر بھی تھے۔ وہ "مسافر” کے قلمی نام سے فلم نگری کا احوال اپنے کالم میں پیش کرتے تھے۔ انھوں نے 1990ء کے شمارے میں اپنے اسی کالم میں پاکستان کی مشہور فلم "مولا جٹ” کا تذکرہ بھی کیا تھا۔

ہم لیجنڈری اداکار سلطان راہی کی یاد میں ان کی اس سپرہٹ فلم سے متعلق یہ مختصر یہاں مضمون نقل کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

10 مارچ 1990ء کو مسافر کا اچانک ہی لاہور جانا ہو گیا۔ دانہ پانی کا اٹھنا سنتے تھے، مگر اس روز مسافر اس محاورے پر پورا ایمان لے آیا۔

اس وقت پاکستان کے شہرۂ آفاق فلم ساز سرور بھٹی کی شہرۂ آفاق فلم "مولا جٹ” کی نمائش کا موقع تھا۔

ہندوستان میں اگر ریکارڈ توڑ فلم "شعلے” بنی ہے تو پاکستان میں ریکارڈ توڑ ہی نہیں کرسی توڑ فلم "مولا جٹ” بنی۔ کرسی توڑ اس لیے کہ ‘مولا جٹ’ لاہور میں مشترکہ 216 ویں ہفتہ میں چل رہی تھی کہ حکومتِ وقت نے اس پر پابندی لگا کر اتار دیا۔

مولاجٹ 9 فروری 1979ء کو لاہور کے شبستان سنیما میں ریلیز ہوئی تھی اور 3 فروری 1981ء کو 104 ویں ہفتہ میں تھی کہ اس طرح سنیما سے اُچک لی گئی جیسے باغ میں کھلنے والا سب سے خوب صورت پھول اچک لیا جاتا ہے۔

بات کورٹ کچہری تک گئی۔ ہائی کورٹ نے 27 دن کی کارروائی کے بعد 55 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا اور حکومت کے اس فعل کو غیر قانونی قرار دیا۔

25 اپریل 1981ء کو "مولا جٹ” کو پھر سے کرسیاں توڑنے اور ریکارڈ توڑنے کے لیے آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ اچانک 18 مئی 1981ء کو مارشل لا قوانین کے تحت فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔ اس طرح ‘مولا جٹ’ کی آزادی ختم ہو گئی۔

پاکستان سے مارشل لا گیا تو سرور بھٹی نے ‘مولا جٹ’ کی حبسِ بے جا کے خلاف عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے اور 9 مارچ 1990ء کو ایک بار پھر ‘مولا جٹ’ کا راج آ گیا۔ اس بار ‘مولا جٹ’ لاہور کے دس سنیما گھروں میں ایک ساتھ ریلیز کی گئی۔

مسافر نے برسہا برس بعد لاہور کے سنیما گھر میں عام پبلک کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی۔ ہندوستان میں اور پاکستان میں دونوں جگہ فلمی پبلک ایک جیسی ہے۔ انڈیا میں ہی نہیں پاکستان میں بھی ہر اچھے سین پر واہ وا، تالیاں اور سیٹیاں بجائی جاتی ہیں۔ ‘مولا جٹ’ چوں کہ ریکارڈ توڑ اور کرسی توڑ فلم تھی اس لیے منٹ منٹ پر تالیاں اور سیٹیاں بج رہی تھیں۔

‘مولا جٹ’ ہندوستان میں کئی ناموں سے، کئی کئی زبانوں میں بنی ہے۔ خود پاکستان میں مولاجٹ کی باڑھ آ گئی۔ درجنوں فلمیں مولا جٹ اور فلم کے ایک کیرکٹر نوری نت کے نام پر بنیں۔ جیسے مولا جٹ ان لندن، ضدی جٹ، جٹ دا ویر، شاگرد مولا جٹ دا، مولا سائیں، مولا بخش، مولا دادا، جٹ تے ڈوگر، مولا جٹ کے نوری نت، جٹ گجرتے، نوری نت وغیرہ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں