The news is by your side.

Advertisement

سومینلینا: خوں ریزی اور سمندر کے غیظ وغضب کا گواہ

دنیا کے چند بڑے سمندری قلعوں میں سے ایک 18 ویں صدی کا قلعہ فن لینڈ میں سومینلینا میں واقع ہے، جو دارالحکومت ہیلسنکی کا حصہ ہے۔

فن لینڈ وہ یورپی ملک ہے جو اپنے ثقافتی اور تاریخی مقامات کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور یورپ میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ فن لینڈ میں آنے والے سیاحوں کی اکثریت اس قلعے کو دیکھنے کے لیے ہیلسنکی کا رخ کرتی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ قلعہ روسی فوج کے حملوں سے بچنے اور ان کا مقابلہ  کرنے کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعے کی تعمیر 1748 میں شروع ہوئی تھی۔

اس قلعے کے اطراف کئی سرنگیں ہیں اور جزیرے کے آس پاس پگڈنڈی بنی ہوئی ہے۔ 1808 میں جب سویڈن نے ہتھیار ڈالے تو اس قلعے پر روس کا قبضہ ہو گیا جو 1918 میں فن لینڈ کی آزادی کے بعد اس کی ملکیت بن گیا۔

یونیسکو نے اس قلعے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے کر اہم تاریخی یادگاروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس قلعے کو جزیرے پر سمندر کے بالکل قریب بنایا گیا ہے۔ سمندری لہریں اس کی مضبوط دیواروں سے ٹکراتی ہیں اور یہ سیاحوں کے لیے ایک پرکشش منظر ہوتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں