جنوری 31‘ چاند کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟ -
The news is by your side.

Advertisement

جنوری 31‘ چاند کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟

وہ اوائلِ دسمبر کی ایک بہت ہی ٹھنڈی رات تھی۔سردی کا یہ عالم تھا یہ میرے دانت بج رہے تھے، اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں لرزتے آئی فون سے سپر مون کی چند دھندلی تصاویر لےکر میں تیزی سے سیڑھیاں اتر تی چلی گئی۔ آسمان پر دمکتا یہ کٹورا سا چاند ہمیشہ سےمیری خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے جو دیگر سیاروں اور ستاروں کی نسبت ہم سے زیادہ قریب ہے ،اتنا قریب کہ ہم صرف سادہ آنکھ سے اسے دیکھ سکتے ہیں بلکہ اس کے نا ہموارسطح کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں ۔

مگر سپر مون ایک بالکل مختلف امر ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین سے قریب ترین مقام پر آجاتا ہے جسے ‘ پیری گی’ کہا جاتا ہے یہ فاصلہ 221،225 میل ہوتا ہے جو زمین اور چاند کے عمومی فاصلے 238،900 میل سے نوے گنا کم ہوتا ہے۔ چونکہ چاند کا مدار بیضوی ہے گردش کے دوران جب یہ زمین سے دور ترین مقام پر جاتا ہے تو دونوں کے درمیان فاصلہ اس کا پانچ فیصد رہ جاتا ہے جسے ‘اپوگی ‘ کہا جاتا ہے ۔ پیریگی مناسبت سے ماہرین فلکیات ااس امر کو ‘ پیریگی سیزائگر ‘ کہتے ہیں جو کہ نسبتا مشکل نام ہے اس لیے میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک آسان اصطلاح سپر مون استعمال کی جاتی ہے۔

سپرمون – آخرچاند اتنا روشن اور بڑا کیوں دکھائی دیتا ہے

سپر مون کے حوالے سے ایک قابل ِ ذکر بات یہ ہے کہ ہر دفعہ چاند اپوگی کے مقام پر نہیں ہوتا بلکہ عموما ََ رونما ہونے والے سپر مون چودہ سے سولہ فیصد زیادہ بڑے سائز کے اور پچیس سے تیس فیصد زیادہ روشن ہوتے ہیں ۔ پچھلے برس 3 تین دسمبر کو ایک سپر مون سیریز کا آغازہوا تھا جس کا دوسرا چاند 2018 سال کے پہلے روز یکم جنوری کو مشاہدہ کیا گیا جو اپنی نوعیت سے حوالے سے تین دسمبر کے چاند سے بہت مشابہہ تھا ، اور اب اکتیس جنوری 2018 کو اس سیریز کا آخری سپر مون دکھائی دےگا جو کئی حوالوں سے منفرد اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ سب سےپہلے تو یہ رواں ماہ جنوری کا دوسرا مکمل چاند ہوگا ، ایک ہی ماہ دکھائی دینے والا دوسرا مکمل چاند فلکیات کی اصطلاح میں میں ‘ بلیو مون ‘ کہا جاتا ہے ۔ اس سپر بلیو مون پر جب زمین کا سایہ’امبرا ‘ پڑے گا تو اس کے باعث یہ دہکتے تانبے کی طرح سرخ نظر آئیگا ، یعنی اس رات چاند گرہن بھی ہوگا جسے مجموعی طور پر ‘ سپربلیو بلڈ مون ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

پاکستان میں 70 سال بعد سپر مون کا نظارہ

ماہرین فلکیات کے مطابق اس طرح تین عوامل تقریبا ًایک سو پچاس سال بعد اکٹھے نظر آتے ہیں ،اس سے پہلے 1866 میں دکھائی دیئے تھے اور اب 2168 میں نظر آئیں گے ۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک پریس ریلیز کے مطابق کبھی کبھی فلکیاتی عوامل اس طرح ترتیب اور تواتر سے اکھٹے ہوتے ہیں جو بیک وقت حیران کن بھی ہیں اور خلائی تحقیقات میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ اس برس مارچ میں بھی بلیو مون دکھائی دے گایعنی دو مکمل چاند ہو نگے لیکن درمیان کے مہینےفروری میں ایک دفعہ بھی مکمل چاند کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکے گا جسے ‘ بلیک مون ‘ کا نام دیا گیا ہے جو ہر بیس برس بعد رونما ہوتا ہے۔

اکتیس جنوری کے سپر بلیو بلڈمون کو ایشیاء ، روس کے مشرقی علاقوں ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے رہائشی با آسانی دیکھ سکیں گے جس کے اوقات رات ایک بجے سے علی الصبح چار بجے کے ہیں جبکہ شمالی امریکہ ، الاسکا اور ہوائی میں صرف مکمل چاند گرہن سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کے وقت دیکھا جا سکے گا ۔ لیکن بد قسمتی سے مشرقی ٹائم زون میں رہنے والے افراد کے لیے صبح پانچ بجے اس تانبے جیسے دہکتے گرہن کا مشاہدہ کافی مشکل ہوگا۔ جبکہ برطانیہ کے رہائشی اس نظارے سے یکسر محروم رہیں گے ۔ دنیا بھر سے فلکیات کے شیدائی اس تاریخی گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں باآسانی سپر مون کے ساتھ گرہن کا بھی مشاہدہ کیا جاسکے گا ۔

پاکستان میں بھی اس سپر مون کو غروبِ آفتاب کے بعد دیکھا جا سکے گا جبکہ بلڈ مون رات کے آخری پہر میں دو بجے کے بعد دیکھا نظر آئے گا ۔ اس چاند گرہن کا دورانیہ تقریباً76 منٹ ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں