پی بی17 میں انگوٹھوں کی تصدیق سےمتعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

پی بی17 میں انگوٹھوں کی تصدیق سےمتعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پی بی 17 میں انتخابی دھاندلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ دھاندلی کے الزام کوثبوتوں کے ساتھ ثابت کرنا ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے یار محمد رند کے حلقے پی بی 17 میں انگوٹھوں کی تصدیق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کو نشاندہی کرنی تھی جو دھاندلی میں ملوث تھے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 13 پولنگ اسٹیشنزکی حد تک یار محمد رند نے مانا دھاندلی ہوئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ انہوں نے دھاندلی کا الزام آپ پر لگایا ہے، کیا سب پولنگ اسٹیشنزپرایک ہی طریقے سے دھاندلی ہوئی؟۔ دھاندلی کے الزام کوثبوتوں کے ساتھ ثابت کرنا ہوتا ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 2136 ووٹ مسترد ہوئے ، 1535 ووٹ سے یارمحمد رند جیتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کیا اتنی آسانی سے کامیاب امیدوار کوفارغ کردیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے پی بی 17 میں انتخابی دھاندلی سے متعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ عام انتخابات 2018 میں سردار یار محمد 16531 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار میرعاصم کرد نے 14882 ووٹ لیے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں