The news is by your side.

Advertisement

آسیہ بی بی کیس: سپریم کورٹ نے سماعت معطل کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کیس میں آخری اپیل کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کیس کی درخواست ضمانت کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کرلی۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا کہ چونکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہتے ہوئے اس کیس سے منسلک رہے ہیں لہذا وہ اس کیس کی اب سماعت نہیں کرسکتے۔

جسٹس ثاقب نثار نے بتایا کہ جسٹس اقبال حمید الرحمان کی جانب سے سماعت سے انکار کے بعد اب کیس کو آئندہ سماعت کے لیے ایسے بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے گا جس میں وہ موجود نہ ہوں ۔

خیال رہےکہ آسیہ بی بی کو 2010 میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی حالانکہ ان کے وکلاء آسیہ کی بےگناہی پر اصرار کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔

آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام جون 2009 میں لگایا گیا تھا جب ایک مقام پر مزدوری کے دوران ساتھ کام کرنے والی مسلم خواتین سے ان کا جھگڑا ہوگیا تھا۔

آسیہ سے پانی لانے کے لیے کہا گیا تھا تاہم وہاں موجود مسلم خواتین نے اعتراض کیا کہ چونکہ آسیہ غیر مسلم ہے لہٰذا اسے پانی کو نہیں چھونا چاہیے۔

بعد ازاں خواتین مقامی مولوی کے پاس گئیں اور الزام لگایا کہ آسیہ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، پاکستان میں اس جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف متعدد اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اور اگر اب سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزا برقرار رکھی اور سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا تو پاکستان میں توہین رسالت کے الزام میں دی جانے والی یہ پہلی سزا ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل چار جنوری 2011ء میں ممتاز قادری نےسابق گورنرپنجاب سلمان تاثیر کو آسیہ بی بی کیس سے متعلق بیان پر اسلام آباد میں ایک ہوٹل کے باہرفائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: سابق گورنرپنجاب سلمان تاثیرکےقاتل ’ممتازقادری‘ کوپھانسی

سابق گورنرپنجاب سلمان تاثیرکے قاتل ممتاز قادری کو رواں سال 29فروری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا معاملہ انتہائی حساس مسئلہ بن گیا ہے،جہاں 97 فیصد آبادی مسلمان ہے اور غیرمصدقہ دعووں کی بنیاد پر ہجوم کے تشدد کے واقعات عام ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں