The news is by your side.

Advertisement

عدالتی وقت کے بعد نواز شریف کی رہائی کے فیصلے کی ترسیل کرنے والے سپریم کورٹ ملازمین معطل

لاہور: نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل سے ضمانت پر رہائی کا عدالتی فیصلہ غیر قانونی طور پر جیل پہنچانے والے دونوں ڈسپیچرز کو معطل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل سے راتوں رات رہائی کے معاملے کی حقیقت سامنے آ گئی، سپریم کورٹ کے 2 ملازم فیصلے کی غیر قانونی ترسیل کے الزام میں معطل کر دیے گئے۔

سپریم کورٹ سے علی اور لاہور رجسٹری سے شہزاد نامی ملازم کو معطل کیا گیا ہے، دونوں ملازمین نے عدالتی وقت ختم ہونے کے با وجود فیصلے کی ترسیل کی۔

خیال رہے کہ عدالتی اوقات کار سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک ہیں، جب کہ سپریم کورٹ کا ضمانت کا فیصلہ رات 9 بجے لاہور بھجوایا گیا تھا، سپریم کورٹ کے معطل ہونے والے دونوں ملازمین ڈسپیچر ہیں۔

نواز شریف کی رہائی میں جیل مینوئل کی بھی خلاف ورزی کی گئی، جیل مینوئل کے مطابق مغرب کے بعد دروازے نہیں کھولے جا سکتے۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما طارق فضل چوہدری نے سپریم کورٹ کے دونوں ملازمین سے اظہار لا تعلقی کر دیا ہے، انھوں نے کہا وہ سپریم کورٹ کے دونوں ملازمین کو نہیں جانتے۔

یہ بھی پڑھیں:  عدالتی فیصلے کے بعد نوازشریف کی کوٹ لکھپت جیل سے ضمانت پر رہائی

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کے وکیل نے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جس کے بعد سابق وزیر اعظم کی رہائی کا روبکار جیل سپرٹنڈنٹ کو ارسال کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری روبکار لے کر جیل پہنچے، تام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ضمانت کے لیے 50 ، 50 لاکھ کے 2 مچلکے جمع کرا چکے، روبکار لانا سرکاری اہل کاروں کا کام ہے وہ خود ہی لے کر آئیں گے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں