The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے "جناب عالی” کی ضمانت منظور کرلی

سپریم کورٹ میں خاتون کے قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزم "جناب عالی” کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں خاتون قتل کیس کی سماعت ہوئی جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور جناب عالی نامی ملزم کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی جب کہ عدالت عظمیٰ نے آر پی او مردان یاسین فاروق کی سرزنش کرتے ہوئے کے پی پولیس کو قتل کی تحقیقات بہتر انداز میں جاری رکھنے کا حکم دیا۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آر پی آو صاحب آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو یہاں کیوں بلایا گیا ہے جس پر آر پی او نے جواب دیا کہ کیس کی تفتیش غلط ہونے پر عدالت میں پیش ہوا ہوں اور پولیس کی جانب سے غلطی کو تسلیم کرتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آر پی او پر برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں سے کام نہیں ہوتا تونوکری چھوڑ دیں، 37 سالہ خاتون قتل ہوگئی وہ روز آپ کی گردن پکڑے گی یا ہماری، ناقص تفتیش کےباعث اگر آپ کا نام ایف آئی آر میں ہوتا تو آپ جیل میں ہوتے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کےپی میں ریپ اور غیرت کے نام پر ہونیوالے قتل کی تفتیش خواتین سے کیوں نہیں کرائی جاتی؟ مردان ڈویژن میں کتنی خواتین پولیس افسران ہیں؟ جس پر آر پی او نے بتایا کہ مردان میں کوئی خاتون پولیس افسر نہیں تاہم 50 لیڈی کانسٹیبل ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے اس پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مردان ڈویژن 5 اضلاع پر مشتمل ہے اور ایک خاتون پولیس افسر نہیں جب کہ عدالتی حکم پر پنجاب میں ریپ کیسز میں خواتین سے تفتیش کی ایس اوپیز بنالی ہیں، کےپی میں ریپ، غیرت کے نام پر کیسز کی تفتیش خواتین سے کرانے کی ایس اوپیز بنائیں اور مردان ڈویژن میں خواتین پولیس افسران تعینات کرنے کےاقدامات کیے جائیں۔

عدالت عظمیٰ نے یہ حکمنامہ آئی جی اور ہوم سیکرٹری کے پی سمیت مردان کے تمام آر پی اوز کو بھیجنے کی ہدایت کی اور ملزم جناب عالی کی ضمانت منظور کرلی۔

واضح رہے کہ جناب عالی نامی ملزم پر 14 جنوری 2022 کو اپنے بھتیجے کی بیوی کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں