مشعال خان قتل از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا -
The news is by your side.

Advertisement

مشعال خان قتل از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مشعال خان قتل از خودنوٹس کیس میں پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا  جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا نے مکمل رپورٹ مرتب کر نے کیلئے مزید مہلت مانگ لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشعال  خان  قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران آئی جی کے پی کے صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ 80 فیصد تحقیقات مکمل کرلی ہے ، تحقیقات مکمل کرکےجلد چالان پیش کریں گے ، التماس ہے ذیلی عدالت کو کیس کی جلدسماعت کی ہدایت کی جائے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ فکر نہ کرے، عدلیہ اورپوری قوم اس معاملے پرایک ہیں، معاملےمیں  ہر سطح پر انصاف کو یقینی بنائیں گے۔

سپریم کورٹ نے پشاورہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بتایا جائے جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیاجواز ہے ، ہمیں اپنے تحقیقاتی اداروں  پرمکمل اعتماد ہے ،  سیاسی مفادات کیلئے تحقیقات کو سائیڈ لائن نہیں ہونے دیں گے، آئی جی صاحب ہم نےآپ کی بڑی تعریف سن رکھی ہے۔


مزید پڑھیں : مشال قتل کیس: سپریم کورٹ میں سماعت کل ہوگی


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی پولیس کو کیس کی درست اور جلد تحقیقات کرکے چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں مشعال خان ازخودنوٹس کی سماعت ستائیس اپریل تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کی دوخواست وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کی تھی۔

واضح  رہے کہ گزشتہ دنوں مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں مشتعل طالب علموں نے مشعال  خان پر توہین رسالت کا الزام لگا کر اُس پر حملہ کیا اور شدید تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگیا تھا۔

دوسری جانب مشال قتل میں ملوث مزید دو ملزم طارق خان ا وراسحاق خان کوچارسدہ پولیس نے حراست میں لےلیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں