The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہاؤس پر حملہ: تحریک انصاف، مسلم لیگ ن ،جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کو نوٹس جاری

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سندھ ہاؤس پرحملے سے متعلق درخواست پر تمام سیاسی جماعتوں تحریک انصاف،مسلم لیگ ن ،جےیوآئی اور پیپلز پارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو پیر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

تفصلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سندھ ہاؤس پرحملے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، آئی جی اسلام آباد اوراٹارنی جنرل خالد جاوید جبکہ سپریم کورٹ بار کی جانب سے تصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی خلاف ورزی کی گنجائش نہیں عوام احتجا ج کا حق رکھتےہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب سپریم کورٹ بار نے عدالت سے رجوع کیا ہے، بار ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرامد کیا جائے، آپ بھی عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے پر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، پیر تک صدرتی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا بار امن عامہ اور آرٹیکل 95 کی عملداری چاہتی ہے، ہم آرٹیکل63 سے متعلق اپنی رائے بھی درخواست کےساتھ دےدیتےہیں، جس پراٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس کوسپریم کورٹ بارکی درخواست سے الگ رکھا جائے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ بار اپنی درخواست میں استدعا کر پڑھ کر سنائے، درخواست گزار کی استدعا سیاسی تناظر میں ہے ،عدالت نے ملک کے سیاسی تناظر کو نہیں آئین کو دیکھنا ہے ، قانون پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اخبارات سے معلوم ہوا 63 اے کے حوالے سےحکومت سپریم کورٹ آ رہی ہے ، کیا حکومت بھی معاملے پر سپریم کورٹ آرہی ہے ؟

یہ از خود نوٹس کی کاروائی نہیں ،ہمارے پاس پہلے درخواست آچکی ہے، آزادی رائے اوراحتجاج کے حق پرکیا کہیں گے، کل ہم نےایسا واقعہ دیکھا جو آزادی رائے اوراحتجاج کے حق کےخلاف تھا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں، میں واقعےکا پس منظر بتانا چاہتا ہوں، تشدد کا بھی جواز نہیں ہے پرامن انداز سے احتجاج کا حق ہے، آئی جی اسلام آباد اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بھی موجود ہیں ، تھانہ سیکریٹریٹ میں 13افراد کےخلاف مقدمہ درج کر لیاگیا اور آج 13مظاہرین کو رہاکر دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ بار لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے خدشات رکھتی ہے، ایسا واقعہ دیکھا جو آزادی اظہار راے کےآئینی حق کے خلاف ہے ۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تو کوئی دوسرا سوال نہیں ہے ، اچانک سیاسی درجہ حرارت بڑھا اور یہ واقعہ ہوا ، جس پر چیف جسٹس نے کہا جو کچھ ہو رہاہے ہمیں اس سے مطلب نہیں، ہم آئین کی علداری کے لیےیہاں بیٹھے ہیں ، کیاپبلک پراپرٹی پر دھا ابولنا قابل ضمانت جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے تمام سیاسی جماعتوں تحریک انصاف،مسلم لیگ ن ،جےیوآئی اور پیپلز پارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو مقدمے میں فریق بنا دیا۔

سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو پیر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سیاسی عمل میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں، عدم اعتماد کی کاروائی آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو قانون کے مطابق اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا تمام سیاسی جماعتیں اپنے وکلاکےذریعے عدالت کی معاونت کریں۔

سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ بارکی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی، سپریم کورٹ بار نےبڑھتی کشیدگی روکنے کے لیے درخواست دائرکر رکھی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں