The news is by your side.

Advertisement

پانامہ کیس ، وزیراعظم کے بچوں کو پیر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس سے متعلق سماعت میں وزیراعظم کے بچوں کو پیر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی جبکہ وزیر اعظم نے جواب جمع کرادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق دائردرخواستوں پر چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، سپریم کورٹ کے بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعیداورجسٹس اعجازالحسن شامل ہیں۔

سلمان اسلم بٹ حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، پی ٹی آئی کی جانب سے شیریں مزاری اور شاہ محمود قریشی اور سراج الحق سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف ، دانیال عزیزاور دیگر بھی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا گیا ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں، وہ لندن کے فلیٹس، آف شور کمپنیوں اور دیگر جائیدادوں کا مالک نہیں، ٹیکس قانون کے مطابق ادا کرتے ہیں، بچے میری زیر کفالت نہیں ہیں۔

وزیر اعظم کے وکیل کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ سال دوہزار تیرہ میں تمام اثاثوں کا اعلان کرچکا ہوں، وزیراعظم باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار نہیں دیے جا سکتے۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وزیر اعظم کے بچوں کے جواب کیوں نہیں جمع کرائے گئے، آپ ہمارا وقت ضائع کر رہے ہیں ، 15 دن کا وقت دیا گیا تھا ،اصل فریق کا جواب تو آیا نہیں، لکھ کردیں مریم نواز میری کفالت میں نہیں۔

وکیل سلمان اسلم بٹ نے بتایا کہ مریم صفدر ، حسن اورحسین ملک سے باہر ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آئندہ سال جواب جمع کرائیں گے، اگر پتہ ہوتا کہ یہ کرنا ہے تو عدالت ہی نہ لگاتے۔

جسٹس آصف سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر جواب جمع نہ کرایا تو الزامات تسلیم کرلیں گے۔

وزہراعظم کے وکیل نے جواب کیلئے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کی، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کو دو بار مہلت دے چکے ہیں آپ جواب جمع کروانا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے استدعا مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کے بچوں کو پیر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے کہا ک ایک رکنی کمیشن کے قیام کے لئے حکم جاری کریں گے، کمیشن بااختیار ہوگا، معاملے کی تحقیقات کرے گا، کمیشن سپریم کورٹ کے جج پرمشتمل ہوگا، تمام فریقین کمیشن کے کام کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز جمع کرائیں۔

جس کے بعد کیس کی سماعت پیر کی صبھ ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی گئی۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف ، شیخ رشید اور جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ میں ٹی او آرز جمع کرادیئے ہیں۔

سماعت سے قبل

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکے وکلاء نےٹی اوآرز مرتب کرلیے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹرین حادثہ ہوا ہے، سعد رفیق یہاں سپریم کورٹ میں نظر آ رہے ہیں، انہیں کراچی میں ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی، ساڑھے تین سال سے جہاں تھے ابھی بھی وہیں ہیں، بھارت ازلی دشمن ہے، اس کیخلاف بولنے کیلئے کسی کی ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ آج قوم کیلئے خوشی کا دن ہے، پاناماپیپرز میں شامل تمام نام سامنےآنے چاہئیں، آف شوراکاؤنٹ میں موجود رقم کیسے منتقل ہوئی۔


مزید پڑھیں : پانامہ لیکس کیس ، سپریم کورٹ کا فریقین سے تحریری جواب طلب


یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات اور وزیراعظم کی نااہلی کے لیے دی گئی درخواستوں پر سماعت میں نواز شریف اور اُن کے اہل خانہ کو 2 روز میں جواب طلب کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ فریقین سے ٹی او آر اور کمیشن کی تجویز سے متعلق حتمی جواب 3 نومبر تک تحریری طور پر طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں