تھر کول منصوبہ ناکام، عوامی پیسے کا ضیاع ہوا: چیف جسٹس -
The news is by your side.

Advertisement

تھر کول منصوبہ ناکام، عوامی پیسے کا ضیاع ہوا: چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں تھر کول منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ منصوبہ مکمل ناکام ہوا، عوامی پیسے کا ضیاع ہوا۔ عدالت نے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق بھی جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں صحرائی علاقے تھر میں جاری تھر کول منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سائنسداں ڈاکٹر ثمر مبارک نے عدالت میں بتایا کہ 2015 میں 8 میگا واٹ بجلی شروع ہوگئی، تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئلے سے منسلک منصوبہ بنا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تعریف نہ کریں، ہم آڈٹ کروائیں گے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کتنا پیسہ ملا کیا کام ہوا؟۔

ثمر مبارک نے بتایا کہ 2009 میں منصوبے کی لاگت 8.8 ارب تھی، 2 سال میں منصوبہ مکمل ہونا تھا، 2012 میں فنڈنگ شروع ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ منصوبہ ناکام ہوگیا؟ جس پر ڈاکٹر ثمر نے کہا کہ منصوبہ ناکام نہیں ہوا بلکہ پیسے نہیں ملے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 3 ارب سے زائد خرچ کر کے 8 میگا واٹ بجلی پیدا ہوئی، چیف جسٹس نے کہا کہ منصوبے میں ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟

ڈاکٹر ثمر نے کہا کہ 8 میگا واٹ کے بعد پیسے نہیں ملے، چوکیدار اور ملازمین تک کو پیسے نہیں ملے۔ سابق وزیر احسن اقبال نے فنڈنگ روک دی۔

چیف جسٹس نے کہ کہ آپ نے کہا پاکستان مالا مال ہوگیا، بتائیں پاکستان مالا مال ہوا؟ تھر کی بجلی کہاں ہے؟ مکمل تحقیقات اور جانکاری کے لیے کمیٹی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کس نے کہا غلطی کی، اتنا پیسہ کہاں گیا؟ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ اقتصادی، توانائی اور سائنسی ماہرین کو شامل کرنا پڑے گا۔ ’ثمر مبارک صاحب منصوبہ مکمل ناکام ہوا، عوامی پیسے کا ضیاع ہوا‘۔

عدالت نے منصوبے کا ریکارڈ سلمان اکرم راجہ اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی معاونین ریکارڈ کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کے اراکین تلاش کریں۔

عدالت نے منصوبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق بھی جواب طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ میں مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں