The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا گجر اور اورنگی نالوں کی چوڑائی پر کام شروع کرنے کا حکم

کراچی : سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے گجر اور اورنگی نالوں کی چوڑائی پر کام شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے متاثرین کی معاوضے اور آپریشن روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گجر نالہ، اورنگی نالہ تجاوزات کیس میں لیزمکانات گرانے سے متعلق وضاحت کیلئےکے ایم سی کی درخواست کی سماعت ہوئی ،

وکیل کے ایم سی نے بتایا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے تحت گجر نالے کو جوڑا کیا جا رہا ہے، نالے کوچوڑا کرنےکی زدمیں لیزمکانات بھی آرہے ہیں، اینٹی انکروچمنٹ ٹربیونل نے لیزمکانات گرانےسے روک دیا تھا۔

جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا نالوں کی ری الائنمنٹ کردی گئی ہے، متاثرین کو 2سال تک 20 ہزار روپے کرایہ دیاجائیگا، وفاق کی نئے پاکستان مہم میں متاثرین کو گھر دے جائیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تو بارشیں ہونے والی ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ حکم امتناع کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر پا رہےم نالوں کے اطراف سٹرک کا مقصد دوبارہ قبضے کو روکنا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا نالوں پر لیز آخر دی کس نے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ مختلف وقتوں پر مختلف لوگوں نے لیز دی، ، چیف جسٹس نے کہا اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، لیز دینے میں حکومتی ادارے ذمہ دار ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کم از کم گھر توڑے جائیں، نالوں کو دوبارہ سے ری ڈیزائن کیا گیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کس قانون کے تحت ایس بی سی اے نے قبضے ہونے دیئے؟

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، سپریم کورٹ نےنالوں کےاطراف سٹرک کا کوئی حکم نہیں دیا، جس پر وکیل متاثرین کا کہنا تھا کہ گھروں کی لیز کے ڈی اے اور کچی آبادی کی کےایم سی نے دیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا سٹرک بنا رہے ہیں تو اس کی منظوری تو قانون کے مطابق ہوگی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ نالے کی اراضی سٹرک بننے کے بعد بھی بچے گی، 6ہزار متاثرین کو متبادل دیا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیصل صدیقی یہ زمین متاثرین کی نہیں نالے کی اراضی ہے، یہ لیز کیسے دی گئیں، کیا معلوم نہیں؟ زمین سرکاری ہے تو متاثرین کو ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے؟ یہ چائنہ کٹنگ کا معاملہ ہے، سب جعلی دستاویزہیں، لیز چیک ہوئیں تو سب فراڈ نکلے گا۔

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سارا ملبہ غریبوں پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے، امیروں کے گھروں کی بھی تو لیز چیک کی جائیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا آپ لیز متعلقہ محکمے میں لے جائیں اصلی ثابت کریں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا سپریم کورٹ کا 12 اگست کا فیصلہ ایک بار پڑھ لیا جائے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ اپنی لیزیں دیکھیں، سب جعلی ہوں گی تو فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نالوں کی چوڑائی کا کام کر رہی ہے، سپریم کورٹ نے متاثرین کو معاوضے کی بھی ہدایت کی۔

عدالت نے کہا سپریم کورٹ نے اصل لیز سے متعلق حکم دیا نہ کہ جعلی لیز والوں کو، ایسے تو پورا کراچی معاوضے کے لیے آجائے گا، جس کے بعد سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے گجراوراورنگی نالہ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے نالوں کی چوڑائی پر کام شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نےمتاثرین کی معاوضے اورآپریشن روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نالوں پر حکم امتناع بھی ختم کالعدم قرار دے دیئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں