The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے نیب کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے،چیئرمین نیب کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی : سپریم کورٹ نے نیب کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے اور چیئرمین نیب کو نیب کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سپریم کورٹ رجسٹری میں نجی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاہی پلاٹس پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے نیب کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے اور چیئرمین نیب کونیب کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی، چیف جسٹس نے کہا سینکڑوں کیس10،10سال سے زیرالتواہیں،پیش رفت نہیں ہوتی۔

سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی افسر اوصاف کے خلاف انکوائری کی بھی ہدایت کردی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا پارکس،مسجد اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کرتے؟ مسجد اوراسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جنہوں نےالاٹمنٹ کیں وہ کیسے باہر گھوم رہےہیں، یہاں دیدہ دلیری سےسینہ تان کر کھڑے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ریاست کیا کر رہی ہے؟ کیا ریاست بےیارومددگارہوچکی ہے؟ نیب کیا کر رہاہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا 4افراد نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا 32 پلاٹوں کامعاملہ 10سال سے چل رہاہے، حکومت کو کچھ فکر نہیں، رجسٹرارکوآپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی نے بتایا پلاٹس منسوخ کرنا میرے دائرہ اختیارمیں نہیں آتا۔

جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ پھر کون کرے گا یہ؟ ریاست بےیارومددگار دکھائی دے تو پھر کیا ہوسکتاہے؟ ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی ہیں، اصل بات 11سال سےدبی ہے، پارک کاٹ کر جو 32 پلاٹس کاٹے سب سے پہلے ان کی بات کریں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے استفسار کیا کیا کوئی نہیں جانتا، کیا کرنا ہوتا ہے؟ وکیل نیب نے بتایا کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی منسوخی ایس بی سی اے کا اختیار ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ لے آؤٹ کا بیڑاغرق کردیا، مسجد،پارک کوئی نہیں چھوڑا، نیب کیا آسمان سے اترا ہے؟ رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا مجھے دو ماہ پہلے چارج ملا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ تو کیا رجسٹرار آفس دو ماہ پہلے بنا؟

جسٹس قاضی محمدامین احمد نے استفسار کیا کہ نیب تفتیشی افسر ملزمان کی گرفتاری کےلیےکیاکیا؟ اگر ضمانت پرہیں توکیا ضمانت صدیوں تک چلنی ہے؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر صاحب، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ چیئرمین نیب کوکہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف انکوائری کریں، تفتیشی افسر نیب ہی کو جیل بھیج دیتے ہیں، لگتا نہیں کہ یہ تفتیشی افسر ہیں، ضمانت کب ملی،کب کیاہوا؟نیب تفتیشی افسر کوکچھ نہیں پتہ۔

نیب خود ملزمان سے ملی ہوئی ہے، سارے کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ عوام کےکاموں کے لیےلگایاآپ کو کسی اور کام میں لگ گئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے نیب سے متعلق ریمارکس میں کہا کہ نیب، ایف آئی اے ریاست کےاہم ترین ادارے ہیں، ٹوٹل اینڈ ٹوٹل کولیپس ہے ، ریاست ناکام دکھائی دیتی ہے، اس طرح تو پورے کراچی پر قبضہ ہو جائےگا۔

عدالت نے کہا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ملزمان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔

سپریم کورٹ نے ملزمان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا اور سماعت کل تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں