The news is by your side.

Advertisement

’شہباز اور حمزہ کی حکومت آئینی طور پر ختم ہوگئی‘

لاہور: تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حکومت آئینی طور پر ختم ہوگئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے نہیں ہے یہ سپریم کورٹ کا تایخی فیصلہ ہے اور ہارس ٹریڈنگ کے خلاف پہلا قدم سپریم کورٹ نے اٹھایا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف کے پاس اس وقت 169 ممبران ہیں اور حکومت برقرار رکھنے کیلئے شہباز شریف کو 186 ارکان کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اورحمزہ شہباز کی حکومت عدالتی فیصلے کے بعدختم ہوگئی ہے انہیں آج ہی اپنے عہدوں سے الگ ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ منحرک ارکان تاحیات نااہل ہیں یا نہیں یہ فیصلہ بعد میں ہوگا ایک چیز تو واضح ہوگئی کہ منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا عدالت نے تحریک انصاف کا مؤقف تسلیم کرلیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایک ڈیڑھ ماہ میں معیشت کو بری طرح  نقصان پہنچایا گیا انہوں نے ہماری تمام محنت کا ڈیڑھ ماہ میں بیڑہ غرق کردیا اللہ کا شکر ہے ان سے جلدی جان چھوٹ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 218 واضح ہے آخری مردم شماری کے تحت الیکشن کرانے ہیں۔

منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ سنادیا

واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمارنہیں ہوگا، انحراف پارلیمانی جمہوریت کوعدم استحکام سےدوچارکرتاہے۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ معاملے پر 3-1 سے رائے سامنے آئی ہے فیصلہ سے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نذیرعالم میان خیل نے اختلاف کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف رکن کی نااہلی کتنی ہوگی جواب نہیں دیا گیا، عدالت نے مستقبل میں انحراف روکنے کا سوال صدر کو واپس بھجواتے ہوئے کہا کہ منحرف ارکان کی نااہلی کیلئے قانون سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، وقت آگیا ہے منحرف ارکان سے متعلق قانون سازی کی جائے۔

سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی اپیل خارج کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں