جمعہ, اپریل 4, 2025
اشتہار

سُرور بارہ بنکوی: ممتاز غزل گو شاعر اور فلمی گیت نگار

اشتہار

حیرت انگیز

1956 میں ڈھاکا میں پہلی بنگلہ فلم ’’مکھو مکھیش‘‘ سے فلم سازی کا آغاز ہوا تھا، لیکن پہلی اردو فلم 1962 میں ’’چندا‘‘ کے نام سے بنائی گئی تھی۔ فلم کے گیت اور مکالمے سرور بارہ بنکوی نے تحریر کیے تھے جنھیں بعد میں‌ وہاں کی فلم انڈسٹری کے فن کاروں نے اپنا استاد تسلیم کرلیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی فلمی صنعت کا تذکرہ جب بھی ہوتا ہے سرور بارہ بنکوی کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ آج سرور صاحب کی برسی منائی جارہی ہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد سرور بارہ بنکوی نے بالخصوص مشرقی پاکستان کی فلمی صنعت میں اپنی نغمہ نگاری کی بدولت خوب شہرت حاصل کی۔ وہ ڈھاکا میں بے حد مقبول تھے۔ بطور شاعر اور فلمی گیت نگار شہرت پانے والے سرور بارہ بنکوی نے فلمی مکالمے بھی لکھے اور تین فلموں کے ہدایت کار بھی رہے۔ تاہم یہ فلمیں ناکام ثابت ہوئیں۔ ان کا اصل نام سعیدُ الرّحمٰن اور تخلّص سُرور تھا۔ اپنے آبائی علاقے بارہ بنکی کی نسبت وہ سُرور بارہ بنکوی مشہور ہوئے۔ سُرور صاحب کی وجہِ شہرت ان کی شاعری ہے۔ انھوں نے غزل اور گیت نگاری میں بڑا نام پایا۔

بنگلہ دیش کی فلمی صنعت کے لوگ سُرور بارہ بنکوی کے شکر گزار بھی رہے اور ان سے بہت محبت بھی کرتے تھے۔ کیوں کہ انھوں نے وہاں اردو فلموں کے لیے خوب کام کیا۔ مشرقی پاکستان کے کئی فن کاروں نے سُرور صاحب سے اردو بولنا اور لکھنا سیکھا اور ان کی خوش اخلاقی، شائستگی اور شفقت کی وجہ سے ان کی بے حد عزّت کرتے تھے۔

مغربی پاکستان میں بطور نغمہ نگار سُرور کی پہلی فلم انجمن (1970) تھی۔ اس کے دو برس بعد فلم احساس میں ان کا تحریر کردہ گیت رونا لیلیٰ کی آواز میں‌ بہت مقبول ہوا جس کے بول تھے، "ہمیں کھو کر بہت پچھتاؤ گے۔” 1977 میں‌ فلم آئینہ میں مہدی حسن کی آواز میں گیت "کبھی میں سوچتا ہوں، کچھ نہ کچھ کہوں” نے بھی دھوم مچا دی اور یہ بھی سرور بارہ بنکوی کا تحریر کردہ تھا۔

سرور صاحب نے تین فلمیں آخری اسٹیشن (1965)، تم میرے ہو (1968) اور آشنا (1970) کے نام سے بنائی تھیں‌ لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم کام یاب نہیں ہوئی تھی۔ بطور نغمہ نگار ان کی دو درجن کے قریب فلمیں ہیں جن میں ملن 1964 کی وہ فلم تھی جس کا سپر ہٹ گیت تھا: تم سلامت رہو، مسکراؤ ہنسو، میں تمہارے لیے گیت گاتا رہوں۔ یہ دل کش گیت بشیر احمد نے گایا تھا۔

غزل گوئی میں بھی سرور بارہ بنکوی نے اپنے ہم عصروں سے بھی خوب داد پائی۔ ان کی غزل کا یہ شعر بہت مشہور ہے:

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

وہ متحدہ ہندوستان کے گاؤں بارہ بنکی میں 1919 کو پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کا بیشتر وقت ڈھاکہ میں گزرا اور وہیں 3 اپریل 1980 کو وفات پائی۔ سرور بارہ بنکوی وہاں ایک فلم بنانے کے سلسلے میں‌ گئے ہوئے تھے۔ ان کا جسدِ خاکی کراچی لایا گیا اور سوسائٹی کے قبرستان میں‌ ان کی تدفین کی گئی۔ سرور صاحب ایک خوش لباس اور خوش گفتار شخص مشہور تھے۔ کہتے ہیں‌ کہ وہ اپنی تینوں‌ فلموں پر خاصا سرمایہ لگا چکے تھے، لیکن وہ فلاپ ہوگئیں‌ اور سرور بارہ بنکوی کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ وہ سخت دباؤ میں تھے اور انہی دنوں پڑنے والا دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔

سرور بارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے سنگِ آفتاب اور سوزِ گیتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں