site
stats
پاکستان

چھرا مار ملزم رہا ہوسکتا ہے، ڈی آئی جی سلطان خواجہ

knife

کراچی: ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ نے کہا ہے کہ چھرا مار واقعات میں ملوث 38 مشتبہ ملزمان کو گرفتار جبکہ 200 موبائل نمبرز کی جانچ پڑتال کی گئی ہے، زیرحراست ملزم وسیم سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے وہ بری ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نسرین جلیل کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فرحت اللہ بابر، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ ، پولیس اور رینجرز حکام نے شرکت کی۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر اور ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چھرا مار واقعات کی روشنی میں 38 مشتبہ افراد کو حراست جبکہ 200 سے زائد موبائل نمبرز کی جانچ پڑتال اور 15 ہزار کالز کو ٹریس کیا گیا علاوہ ازیں 3 نفسیاتی اسپتالوں سے مریضوں کی تفصیلات جمع کی گئیں۔

ڈی آئی جی نے بتایاکہ تیز دھار آلے کے 13 واقعات مماثلث رکھتے ہیں، خواتین کو زخمی کرنے کے الزام میں مبینہ شخص وسیم کو گرفتار کیا گیا جس نے 16 مختلف سمز اور موبائل فون استعمال کیے۔

پولیس حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وسیم کے استعمال میں رہنے والے زیادہ تر موبائل نمبرز رشتے داروں کے نام پر ہیں، ملزم کے زیر استعمال سمز کی تفصیلات میں کہیں چیز یہ ثابت نہ ہوسکی کہ اُس نے کراچی میں کسی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور نہ ہی وسیم کے کراچی آنے کے کوئی شواہد بھی ابھی تک نہیں مل سکے۔ سلطان خواجہ نے بتایاکہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن دس روز سے ساہیوال میں موجود ہیں، شواہد نہ ملنے پر زیرحراست مبینہ ملزم وسیم کو رہا کردیا جائے گا۔

پڑھیں: ایک اورخاتون پرچھری سے حملہ، تعداد بارہ ہوگئی

یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو پنجاب کے علاقے ساہیوال میں پولیس نے مبینہ چھری مار شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ کراچی میں خواتین پر حملے کر کے واپس اپنے علاقے آگیا، ایس ایس پی انوسٹی گیشن سمیت پولیس کی ٹیم نے مذکورہ شخص کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی جس میں تاحال کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

واضح رہے کہ گلستان جوہر میں خواتین کو چاقو سے زخمی کرنے کے واقعات پیش آئے، نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے پیدل چلنے والی 15 سے زائد خواتین کو زخمی کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چھری مارکو پکڑنے کا انعام5سے بڑھ کر10لاکھ روپے ہوگیا

ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف کارروائیاں کی تھیں جس کے دوران 20 سے زائد مشکوک نوجوانوں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا بعد ازاں تحقیقات مکمل ہونے پر چھوڑ دیا گیا۔

پولیس کی جانب سے چاقو مار شخص کی اطلاع دینے پر 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی نے گلیوں محلوں میں سادہ لباس اہلکار تعینات کیے گئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top