جے یو آئی(ف) کے رہنما کا مبینہ قاتل گرفتار -
The news is by your side.

Advertisement

جے یو آئی(ف) کے رہنما کا مبینہ قاتل گرفتار

ڈیرہ اسماعیل خان: پولیس کے انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عطااللہ شاہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے والا مبینہ ملزم گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ 19 اگست کو نیو بنوں چونگی کے قریب جے یو آئی رہنما مولانا عطااللہ شاہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے والے ملزم کو سی ٹی ڈی پولیس نے گرفتار کر لیا، جس کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہی بتایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ مولاناعطااللہ شاہ جےیو آئی (ف) کےڈی آئی خان کی سطح پر متحرک رہنما ہونے کے ساتھ مقامی مسجد میں پیش امام اورخطیب بھی تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کے دوران گرفتار کیا گیا۔اس سلسلے میں جب اے آر وائی نیوز کے نمائندے نے آرپی او ڈیرہ سید فدا حسن شاہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں ملوث مبینہ ملزم کو حراست میں لے لیاگیا ہے جس پر مزید تفتیش کا عمل جاری ہے ۔

یاد رہے کہ مولانا عطاء اللہ شاہ کو 19اگست کی صبح نیو بنوں چونگی کے قریب اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کیاگیا تھا جب وہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سڑک پر واک کررہے تھے۔

جےیو آئی (ف) کے رہنما قاتلانہ حملے میں جاں بحق*

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں بلوچستان کے شہر مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر بم حملہ ہوا تھا جس میں 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ دھماکے میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ 27 مارچ 2015 کو نوشہرہ کے علاقے مدینہ کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جے یو آئی (ف) کے ضلعی رہنما مولانا امیر حمزہ جاں بحق ہو گئے تھے۔

اس سے قبل سنہ 2104 میں مولانا فضل الرحمٰن کی گاڑی کے قریب ایک خودکش بمبار نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جب وہ جمیعت علمائے اسلام کی ریلی سے خطاب کے بعد واپس جارہے تھے۔

مذکورہ واقعے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں بھی مولانا محفوظ رہے تاہم ان کی بلٹ پروف گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔

واضح رہےکہ سنہ 2011 میں جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر یکے بعد دیگرے 2 خودکش دھماکے کیے گئے جن میں مولانا محفوظ رہے تھے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں