The news is by your side.

Advertisement

آسکر ایوارڈ یافتہ سڈنی پولک کو شہرت ہی نہیں عزّت بھی ملی

’سڈنی ایک ایسے شخص تھے جس نے اس دنیا کو ایک بہتر دنیا بنایا۔‘ یہ الفاظ مشہور امریکی اداکار جارج کلونی نے آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکار سڈنی پولک کے انتقال پر ادا کیے تھے۔

سڈنی پولک نے اپنی فلموں میں سماجی اور سیاسی مسائل کو اجاگر کرکے نہ صرف شہرت پائی بلکہ انھیں بہت عزّت اور محبّت بھی ملی۔ 1960 سے 80 کی دہائی تک انھوں نے اپنی فلموں کی بدولت شائقینِ سنیما کی توجہ حاصل کیے رکھی اور ان کے کام کو ناقدین نے بھی خوب سراہا۔

آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکار سڈنی پولک 73 برس کی عمر میں امریکا کے مشہور شہر لاس اینجلس میں چل بسے تھے۔ انھیں کینسر کا مرض لاحق تھا۔ سڈنی پولک کا فلمی کیریئر پچاس سال پر محیط رہا جس میں انھوں نے اپنی فلموں کے لیے ہر خاص و عام سے داد سمیٹی اور اپنے کام پر ناقدین سے تعریف و ستائش وصول کی۔

سڈنی پولک کی مشہور ترین فلموں میں ’ٹوٹسی‘ اور ’آؤٹ آف افریقہ‘ شامل ہیں۔ یہ بلاک بسٹر فلمیں تھیں جن کے ہدایت کار سڈنی پولک تھے۔ انھوں نے ’مائیکل کلیٹن‘ جیسی کام یاب فلم پروڈیوس کی۔ ’ٹوٹسی‘ کے لیے 1982 میں سڈنی کو بہترین ہدایت کار کے آسکر کے لیے نام زد کیا گیا تھا جب کہ ’آؤٹ آف افریقہ‘ وہ بہترین ہدایت کار کا یہ اعزاز اپنے نام کرنے میں‌ کام یاب رہے تھے۔ یہ وہ فلم تھی جسے مجموعی طور پر سات آسکر ایوارڈز دیے گئے تھے۔

سڈنی پولک 1969 میں ’دے شوٹ ہارسز ڈانٹ دے‘ کے لیے بھی بطور ڈائریکٹر آسکر اعزاز کے لیے نام زد ہوئے تھے۔

ان کا سنِ پیدائش 1934 ہے اور وہ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد بطور اداکار قسمت آزمائی کے لیے نیویارک پہنچے تھے اور ٹیلی وژن پر اداکاری کا موقع ملا تو وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ 1961 میں سڈنی پولک نے ٹیلی وژن کے لیے پروگرام بنانے کا سلسلہ شروع کیا اور چار برس بعد بطور ہدایت کار ’دا سلنڈر تھریڈ‘ کے عنوان سے ایک فلم بنائی۔ 90 کے عشرے میں سڈنی پولک نے پروڈیوسر کے طور پر کام شروع کیا اور ’دا فرم‘ جیسی ہٹ فلم سامنے آئی۔ ہدایت کار کے طور پر ان کی آخری فلم ’ اسکیچیز آف فرانک گہرے‘ تھی۔ یہ اپنے وقت کے ایک مشہور آرکیٹیکٹ کے بارے میں دستاویزی فلم تھی۔

26 مئی 2008 کو سڈنی پولک نے ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں‌ موند لی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں