اتوار, مئی 26, 2024
اشتہار

سیّد علی بلگرامی:‌ اعلیٰ‌ پائے کے محقق اور مترجم

اشتہار

حیرت انگیز

برصغیر کی مرفہ الحال ریاست حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے بڑے لوگوں اور نہایت معتبر علمی و ادبی شخصیات کا تذکرہ کیا جائے تو شمس العلماء ڈاکٹر سید علی بلگرامی کا نام ضرور لیا جائے گا۔ سید علی بلگرامی اردو زبان کے نام ور مصنّف، محقق، مترجم تھے جنھوں نے کئی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔

بلگرامی مرحوم کا سنہ پیدائش 1851ء ہے۔ لکھنؤ، پٹنہ کی جامعات اور جامعہ لندن سے تعلیم پانے والے علی بلگرامی کو علم دوست اور اشاعتِ‌ علم و فنون کا بڑا مربی اور سرپرست بھی کہا جاتا ہے جن کے قلم سے نصف درجن سے زائد تحقیقی تصانیف ان کی یادگار ہیں۔ جن میں سے چند کے نام فارسی کی قدر و قیمت بہ مقابلہ سنسکرت، رسالہ در تحقیق کتاب قلیلہ و دمنہ، تمدنِ عرب (ترجمہ) اور تمدنِ ہند (ترجمہ) ہیں۔ سید علی بگرامی کی تاریخِ‌ وفات 3 مئی 1911ء ہے۔ ان کے جدِ امجد مولوی گورنر جنرل ہند کے دربار میں نواب وزیر آف اودھ کے دربار کے نمائندے تھے۔ بلگرامی صاحب کے والد زین الدّین حسن 1878 میں ریاست حیدرآباد میں کمشنر انعام بن کر آئے تھے۔ سید علی بلگرامی نے 1866ء میں فارسی و عربی کی تعلیم گھر پر ختم کی اور بعد میں اعلی تعلیم مکمل کی اور اس کے لیے انگلستان گئے۔ انھوں نے فطری ذہانت اور حافظہ سے متعدد زبانیں سیکھ لیں اور حیدرآباد میں رہتے ہوئے مرہٹی اور تیلگو بھی سیکھی۔ فرانسیسی زبان میں گفتگو کرتے تھے اور قلم برداشتہ لکھتے تھے۔ مشہور ہے کہ وہ چودہ زبانیں ایسے لہجے میں بولتے تھے کہ یہ سب گویا ان کی مادری زبانیں ہیں۔ انگلستان کے علاوہ یورپ میں قیام کیا اور وہاں سے واپسی پر انھیں انسپکٹر جنرل معدنیات مقرر کر دیا گیا۔ 1902ء میں وہ جامعہ کیمبرج میں مرہٹی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ سید علی بلگرامی ریاست میں تو کسی خطاب کے مستحق نہ ٹھہرے مگر گورنمنٹ آف انڈیا نے ان کی علمی خدمات کا اعتراف شمس العلماء کا خطاب 1893ء میں دے کر کیا۔ برطانوی جامعہ نے ان کو پی ایچ ڈی اور ڈاکٹر آف لیٹرز (ڈی لٹ) کی ڈگریاں دیں۔ آل انڈیا ایجویشنل کانفرنس کا سالانہ جلسہ جو اس زمانے میں علی گڑھ میں ہوا تھا اس میں انھوں نے ایک تحقیقاتی مقالہ کلیلہ و دمنہ پڑھا۔ انھوں بڑی محنت سے پتہ چلایا تھا کہ یہ کتاب اصل میں کہاں سے نکلی، کہاں کہاں گھومی، کس کس زبان میں اس کا ترجمہ ہوا اور اس میں کیا کیا تبدیلیاں ہوتی گئی اور اصل سے موجودہ نسخے کتنے مختلف ہوتے گئے۔ ڈاکٹر گستاؤ لی بان کی دو فرنسیسی تصانیف تمدنِ ہند اور تمدنِ عرب کا اردو ترجمہ ان کے شاہکار مانے جاتے ہیں۔ ایلورا کے غاروں پر بڑی چھان بین کی اور ان پر معلوماتی کتابچہ لکھا جو بعد میں پرانی یادگاروں کی تحقیق میں بڑا مفید ثابت ہوتا رہا۔

علی بلگرامی بالکل صحت مند تھے اور ہردوئی میں ایک رات کھانا کھانے کے بعد جب وہ اپنے اہلِ خانہ سے باتیں‌ کر رہے تھے تو ناگہاں‌ حرکتِ قلب بند ہوجانے سے موت واقع ہوگئی۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں