The news is by your side.

Advertisement

بھارت کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دے، سید علی گیلانی

سری نگر: کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ پوری عالمی برادری کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جموں وکشمیر ایک منتازعہ خطہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا تاحال باقی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے سری نگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی وزیراعظم کی طرف سے پارلیمنٹ میں دیے گئے اس بیان کہ اگر سردار پٹیل بھارت کے پہلے وزیراعظم بن جاتے تو مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے غیر شعوری طور پر کشمیر کو حل طلب قرار دے کر کشمیریوں کے موقف کی تائید کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سچائی کو چاہے کتنی ہی طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے یا اسے کتنے ہی طویل عرصے تک جھٹلایا جائے وہ اپنے آپ کو منوائے بغیر نہیں رہ سکتی۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ”اٹوٹ انگ“ کا راگ الاپنے والے خود ہی یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران ایک طرف دبے لفظوں میں جموں وکشمیرکے متنازعہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف کشمیریوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے اور دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران ہٹ دھرمی اور طاقت کی پالیسی ترک کر کے وعدوں کو پورا کریں اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق ، حق خودارادیت دیں۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری گزشتہ تین دہائیوں سے غیر قانونی بھارتی تسلط سے نجات کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود صبر واستقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

حریت چیئرمین نے کہا کہ خطے کے سلگتے ہوئے تنازعہ کشمیرکو پرامن طریقے سے حل کرنے کے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پورا خطہ ٹکراﺅ اور تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں